منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

بھارت نے ہماری پالیسیاں اپنا کر ترقی کی ،پائیدار ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے،احسن اقبال

datetime 13  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ، ترقی ومنصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ ہماری پالیسیوں کو بھارت نے ایک سال بعد اپنا کر ترقی کا سفر طے کیا‘ پائیدار ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے‘ ترقی کرنے والے ممالک میں حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے رخصت ہوتی ہیں،

معاشی سفر میں ملائیشیا اور کوریا آج پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں‘ 60 کی دہائی میں پاکستان نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ بدھ کو پاکستان سوسائٹی آف ڈویلپمنٹ اکانومسٹ کی 33ویں سالانہ کانفرنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ایک وقت تھا جب معاشی استحکام کے لئے پاکستان نے کوریا کی امداد کی تھی۔ معاشی سفر میں ملائشیا اور کوریا آج پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں۔ پالیسیوں کے تسلسل سے دوسرے ممالک ترقی کررہے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان نے سب سے زیادہ ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہ 1990 میں پاکستان نے سب سے پہلے معاشی اصلاحات متعارف کرائیں۔ نوے کی دہائی میں بدقسمتی سے ہر دو سال بعد حکومتوں کو گرایا گیا۔ ہماری پالیسیوں کو بھارت نے ایک سال بعد اپنا کر ترقی کا سفر طے کیا۔ پالیسیوں کے تسلسل سے بھارت اور بنگلہ دیش کی معیشت ہم سے بہتر ہوگئی۔ پائیدار ترقی کے لئے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔ چین میں 1999 سے پالیسیوں کا تسلسل قائم ہے۔ ترقی کرنے والے ممالک میں حکومتیں اپنی مددت پوری کرکے رخصت ہوتی ہیں۔ ملائشیا اور ترکی کے حکمرانوں کو ترقی کے لئے بائیس بائیس سال ملے‘ 1960 اور 70 کی دہائی کے برعکس آج معاشی ترقی کے جدید تقاضے ابھر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی سرمایہ کاری کو متعارف کرانے کا دور ہے۔ ہرملک سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حالات ساز گار بنا رہا ہے۔ حکومتی

کوششوں کی وجہ سے آج ملک میں لوڈشیڈنگ زیرو ہے 2025 وژن کی شکل میں پاکستان کی ترقی کے روڈ میپ کام کا آغاز کیا گیا توانائی کے شعبے میں کامیابی کے بعد صنعتی شعبے میں ترقی ہورہی ہے دو ہزار میگا واٹ کا جوہری توانائی سٹیشن شروع کیا گیا ہے جو تین سال میں مکمل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…