ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی، بہن کے قتل میں ملوث ملزمہ ساتھیوں سمیت ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ،بلیک میل دراصل کون اور کیوں کررہاتھا،افسوسناک انکشافات

datetime 11  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی کی مقامی عدالت نے بہن کے قتل میں ملوث ملزمہ علوینہ اور اس کے ساتھیوں کو 15دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے ۔دوران سماعت ملزمان احسن اور عباس میں رو پڑے ۔پیر کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں سعود آباد کے علاقے میں بہن کو قتل کرنے والی ملزمہ علوینہ ،اس کے منگیتر مظہر ،احسن اور عباس کو پیش کیا گیا ۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ ملزمان کو

24گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا ۔تفتیشی افسر نے عدالت سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ آئندہ شکایت کا موقع نہیں دیا جائے گا ۔فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کیس پراپرٹی ایک نہیں یہ کس کی ذمہ داری ہے ،جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں یہ اس ہی طرح ملی ہے ۔عدالت نے کہا کہ آپ تحریری طور پر یہ لکھ کر دیں بصورت دیگر شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا ۔تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کا کم ازکم 5دن کا ریمانڈ دیا جائے ۔ملزمہ کا میڈیکل بھی کرانا ہے ۔کسی اسپتال لیڈی ڈاکٹرنہیں تھی ۔عدالت نے استفسار کیا کہ لڑکی کا والد کہاں ہے ؟تفتیشی افسر نے آگاہ کیا کہ وہ عدالت میں موجود نہیں ہے ۔ملزم علوینہ نے عدالت میں بیان دیا کہ میری قابل اعتراض تصاویراور ویڈیواحسن کے پاس ہیں۔احسن اور اس کے بھائی نے مجھے بلیک میل کیا ۔ملزم مظہر علوینہ کا منگیتر جبکہ احسن بوائے فرینڈ ہے ۔دوران سماعت ملزمان احسن اور عباس عدالت میں زارو قطار رونے لگے اور کہا کہ ہم نے کبھی ملزمہ کو بلیک میل نہیں بلکہ 25ہزار روپے سے اس کی مدد بھی کی ۔بلیک میل کرنے والا پیسے دیتا نہیں لیتا ہے ۔عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ قانون کے مطابق تفتیش کی جائے ۔عدالت نے ملزمان کو 15دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…