ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کینیڈ اکی شہریت،کینیڈین ہائی کمشنر پیری جان کالڈروڈ نے پاکستانیوں کو بڑی خوشخبری سنادی

datetime 10  دسمبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں تعینات کینیڈا کے ہائی کمشنر پیری جان کالڈر وڈ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان عوام کی کامیابی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، دوسرے ملکوں سے کینیڈا میں شہرت حاصل کرنے والوں میں بڑی تعداد میں پاکستانی ہوتے ہیں،وہ کینیڈا کے اعزاز ی قونصل جنرل کراچی بہرام ڈی آواری کی جانب سے ان کے اعزا ز میں کینیڈا کی 150 ویں سالگرہ کے موقع پر دئیے گئے استقبالیہ سے خطاب کر رہے تھے،

کینیڈا ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا ایک پر امن جمہوری ملک ہے جو مختلف ثقافتوں کو پروان چڑھاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ کینیڈا ہر سال 3 لاکھ افراد کو امیگریشن فراہم کرتا ہے جو اس کی کل آبادی کا ایک فیصد ہے ،اس کے علاوہ بڑی تعداد میں پناہ گزین بھی کینیڈا میں آتے ہیں ،گزشتہ سال 40 ہزار افراد شامل شہریوں نے پناہ حاصل کی جس میں زیادہ تعداد مقامی لوگوں نے اسپانسر کیا تھا،انہوں نے کہا کہ اس وقت جو کینیڈا کے وزیر ایمیگریشن ہیں انہوں نے سومالیہ سے آکر پناہ حاصل کی تھی،اس کے علاوہ بھی بہت ے وزراء ایسے ہیں جو دوسروں ملکوں سے آکر آباد ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ کینیڈ ا کو اس پر فخر ہے کہ ہمارے ہاں تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہے،اس کے علاوہ کینیڈا میں اہم عہدوں پر بھی دیگر ملکوں سے آئے ہوئے افراد موجود ہیں،ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا میں ہر مذہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے ،کینیڈا زبان،نسل اور رنگ کا کوئی تفریق نہیں ہے ،ہر جنس کے لوگوں کو ایک طرح کا شہری سمجھا جاتا ہے اور معذوروں کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے دیگر ملکوں کے ساتھ اچے تعلقات ہیں،اسی لئیے زیادہ تر ملکوں کے افراد کینیڈا میں امیگیریشن حاصل کرنا چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستانی نژاد کینیڈین ہمارے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ،جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…