جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

ختم نبوتؐ کے حلف نامہ میں ترمیم کے حوالے سے شہباز شریف کا مطالبہ مان لیا جاتا تو حالات کشیدہ نہ ہوتے

datetime 27  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(نیوز ڈیسک)ختم نبوتﷺ کے حلف نامہ میں ترمیم کا انکشاف ہوتے ہی سیاسی اور عوامی حلقے میں حکومت پر شدید ترین تنقید کی زد میںآئی مگر افسوس حکومت نے اِس اقدامات سے نہ تو لا تعلقی کا اظہار کیا نہ ہی فوری طور پر ترمیم کو واپس لیا بلکہ پہلے کلیریکل غلطی قرار دے کر جان چھڑا نے کی کوشش کی گئی،جوں جوں معاملہ تعطل کا شکار رہا عوامی غم و غصے میں شدت بڑھتی چلی گئی۔ایک رائے کے مطابق ترمیم کی

واپسی بھی عوامی دباؤ میں لی گئی یہاں لمحہ فکریہ کی بات یہ ہے کہ سب سے پہلے وزیراعلیٰ شہبازشریف نے مطالبہ کیا تھا کہ ختم نبوتﷺ کے حلف میں تبدیلی کرنے والے وزیر کو فارغ کیا جائے جس پر حکومت وقت نے سنجیدگی سے غور نہ کیا تو یہ مطالبہ لے کر تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ اپنی اتحادی مذہبی جماعتوں کے ساتھ سٹرکوں پر آگئی، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا موقف تھا کہ وفاقی وزیر قانون نے عقیدہ ختم نبوت والی شق میں ترمیم کر کے مسلم لیگ ن کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے لہذا انہیں وفاقی کابینہ سے فارغ کر دینا چاہیے، اگر بروقت وزیراعلیٰ پنجاب کے مطالبے کو وفاقی حکومت عمل کر لیتی تو پاکستان کو سنگین حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔یہ بات مصدقہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت پر جب بھی مشکل وقت آیا، شہبازشریف نے ایک قدم آگے بڑھ کر اِسے سہارا دیا اور حکومت کو اچھے،موثر مشوروں سے نوازا۔ جبکہ دوسری جانب بلند وبانگ نعرے لگانے والے دیگر مسلم لیگی رہنماؤں نے خاموشی کو ہی غنیمت جانا۔ حسب روایت کچھ ایسی ہی منظر کشی گزشتہ چند دنوں میں دیکھنے کو ملی،ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں ترمیم کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے والوں اور حکومت میں مذاکرات ناکامی کی طرف بڑھ رہے تھے اور مسلم لیگی رہنما ؤں جن کے دعوؤں، وعدوں اور بلند عزائم کی خبریں و پیغامات دن بھر ٹی وی ٹاک شو میں،

عوامی رابطہ کی سماجی ویب سائیٹ کی زینت بنتے تھے منظر سے بالکل غائب رہے۔معاملے کو سدھرانے کیلئے نہ مریم کا ٹوئیٹ آیا، نہ دانیال، طلال چوہدری کا بیان اور وزیرداخلہ بھی معاملے کو صیح طریقے سے سنبھالنے میں ناکام رہے۔ ایسی صورتحال میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی مخلصانہ،پُرخلوص کاوشیں ایک بار پھر قابل ستائش رہیں کہ اُنہوں نے وزیرقانوں زاہد حامد کو اپنی وزارت سے مستعفی ہونے پر قائل کر لیااور یہی وہ اہم پیش رفت تھی جس سے اسلام آباد سمیت ملک بھر جلاؤ،گھیراؤ، پتھراؤ جیسی صورتحال کے شکنجے سے آزاد ہوگیا اور معاملہ مفاہمت کی جانب بڑھا۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…