جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بڑے ڈیم کا بڑا منصوبہ مکمل،خوشخبری سنادی گئی

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ فروری 2018 ء میں پہلا یونٹ مکمل ہونے پر اِس منصوبے سے بجلی کی پیداوار شرو ع ہو جائے گی ۔ منصوبے کا دوسرا یونٹ اپریل 2018 ء کے آخر جبکہ تیسرا یونٹ مئی 2018 ء کے آخر میں بجلی پیدا کرنا شروع کردے گا ۔چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) مزمل حسین نے یہ بات تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے دورے کے دوران بتائی۔

اپنے دورے میں انہوں نے منصوبے کے مختلف حصوں پرتعمیراتی کام کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فروری سے مئی تک منصوبے کی مرحلہ وار تکمیل کی بدولت قومی نظام کو ایک ہزار 410میگاواٹ سستی پن بجلی مہیا ہوگی جس سے بجلی کی کمی دور کرنے میں مدد ملے گی۔ تعمیراتی کام کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے پراجیکٹ انتظامیہ ، کنسلٹنٹس اور کنٹریکٹرز پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مؤثر رابطہ برقرار رکھیں تاکہ منصوبے کی تکمیل مقررہ اہداف اورتعمیراتی معیار کے مطابق ممکن بنائی جاسکے۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ تربیلا کا چوتھا توسیعی منصوبہ واپڈا کے کم لاگت پن بجلی پیدا کرنے کے ترجیحی پروگرام کا حصہ ہے ۔ توسیعی منصوبے کے تحت تربیلا ڈیم کی سرنگ نمبر 4پر 3پیداواری یونٹ نصب کئے جارہے ہیں جن میں سے ہر ایک کی پیداواری صلاحیت 470میگاواٹ ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے تربیلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت 3ہزار 478میگاواٹ سے بڑھ کر 4ہزار 888میگاواٹ ہوجائے گی۔ تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کی بدولت قومی نظام کو ہر سال 3ارب 84کروڑ یونٹ سستی پن بجلی مہیا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…