پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

کھانچہ تیار، تیاریاں مکمل، اہم ادارے راتوں رات کن لوگوں کو اٹھانے جا رہے ہیں، خبر آتے ہی ہلچل مچ گئی

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی اپنے کیسز سے توجہ ہٹانے کیلئے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے جھگڑے کی طوالت کی خواہاں، ججز اور جے آئی ٹی کو دھمکیاں دینے والوں نے ججز اور سپریم کورٹ سے سکیورٹی ہٹانا شروع کر دی، پیراڈائز لیکس میں جن لوگوں کے نام شامل ہیں

انہیں راتوں رات اٹھایا جا سکتا ہے، تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ہزاروں مظاہرین سردی میں بیٹھے ہیں اور حکومت مذاکرات سے بھاگ گئی ہے، زاہد حامد اور رانا ثنا اللہ چھپ گئے ہیں، مظاہرین کا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کے ذمہ داران کے چہرے سے حکومت نقاب ہٹائے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور اس کی سندھ حکومت چاہتی ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کا جھگڑا لمبے سے لمبا ہوتا جائے۔ ان کا خیال ہے کہ میاں صاحب اور ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے جھگڑے کی طرف توجہ رہے گی تو پی پی پی کی باری نہیں آئیگی۔ اگر باری آئی تو ہماری شوگر ملیں، منی لانڈرنگ ، ڈاکٹر عاصم اور دیگر معاملات کھل جائیں گے۔ اس وقت سیاست کا مرکز کراچی بنا ہوا ہے۔ سینئر صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ججز اور سپریم کورٹ سے سکیورٹی ہٹائی جارہی ہے، ہٹانے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے ان کو زمین تنگ کرنے کی دھمکیاں دی تھیں۔ نہال ہاشمی سب کو یاد ہیں وہ جلدی میں بہت کچھ کہہ گئے، انہوںنے دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ان لوگوں کی نسلوں کیلئے زمین تنگ کر کے رکھ دیں گے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پیراڈائز لیکس میں بہت کم لوگوں کے نام ابھی سامنے آئے ہیں۔ اس کے بعد بہت سے افراد کے نام سامنے آنیوالے ہیں۔ 19کے نام تاحال سامنے آئے ہیں ، ابھی باقیوں

کو چھیڑا نہیں جا رہا۔ پیراڈائز لیکس میں جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں انہیں راتوں رات اٹھوایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے ہزاروں مظاہرین سردی میں دھرنا دے کر بیٹھے ہیں جبکہ حکومت ان سے مذاکرات کرنے کے بجائے بھاگ گئی ہے، زاہد حامد اور رانا ثنا اللہ چھپ گئے ہیں۔ مظاہرین کا صرف اتنا مطالبہ ہے کہ ختم نبوت قانون میں ترمیم کے ذمہ داروں کے چہرے سے نقاب ہٹایا جائے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…