جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی،ڈومور کے مطالبے پر منہ توڑ جواب

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان میں حالات کی خرابی کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جاسکتا، امریکا کے ساتھ اعتماد کا فقدان آج بھی برقرارہے، امریکا کی مشروط پالیسی سے افغان مفاہمتی عمل کو دھچکا لگا، ایک تقسیم شدہ معاشرہ مفاہمتی عمل کو مشکل بنا رہا ہے،ہمیں آبی مسائل اورافغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنا ہوگا، پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم وجود نہیں،

ہمیں خودساختہ دہشت گردی اور مہاجرین کے مسائل سے نمٹنا ہے،ہماری معیشت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت ہے اور امریکا کے پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے میں کردار کو خوش آمدید کہتے ہیں،خطے میں صورتحال پیچیدہ ہے،ہم ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان چاہتے ہیں،پاکستان اور امریکا کے مابین تناو کی کیفیت اچھی نہیں۔ پیر کو اسلام آباد میں جاری پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹریک ٹو مذاکرات کے چوتھے دور میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا خطے میں صورتحال پیچیدہ اور نئی امریکی پالیسی پر اختلاف رائے ہے، ہم ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان چاہتے ہیں، ایک تقسیم شدہ معاشرہ مفاہمتی عمل کو مشکل بنا رہا ہے، افغانستان میں حکومت اختلافات کا شکار جب کہ منشیات اور لا قانونیت عروج پر ہے لہذا افغان مسائل کا الزام پاکستان کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا ہمیں آبی، مہاجرین کے مسائل، افغانستان، پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے نمٹنا ہے تاہم امریکا کی مشروط پالیسی سے افغان مفاہمتی عمل کو دھچکا لگا، افغانستان کو معاشی چیلنجز، پوست کی کاشت، منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہو گا جب کہ

پاکستان کی قربانیوں کے باوجود پاکستان پر الزام تراشی افسوسناک ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس تعاون ناگزیر ہے، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کی سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال ہو۔وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے وسیع تر کردار کے خلاف ہیں، افغانستان کے لیے پاکستان اور امریکا کا کردار اہمیت کا حامل ہے، پاکستان اور امریکا نے سوویت یونین اور القاعدہ کو مل کر خطے سے نکالا، پاکستان اور امریکا کے مابین تناو کی کیفیت اچھی نہیں لہذا دونوں ممالک کو تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اپنے ملکی مفاد میں کررہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کے دفاع کی جنگ ہے جب کہ پاک بھارت تنازعات کے خاتمے کیلئے امریکی کردار کا خیرمقدم کرتے ہیں۔مذاکراتی دورکے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت اختلافات موجود ہیں اور امریکا کے ساتھ اعتماد کا فقدان آج بھی برقرارہے تاہم رابطے بھی ضرور قائم ہیں، دہشت گردوں کے پناہ گاہوں کے بارے اقدامات افغانستان نے خود کرنا ہے تاہم امریکا کا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا قطعی غلط ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بہت سے ایسے مسائل افغانستان کے اندر ہیں جو افغانی حکومت نے ہی حل کرنے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہمارے افغان بھائی امن میں رہ سکیں، افغان

امن ہماری اولین ترجیح ہے کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان کے لیے ضروری ہے، افغانستان میں امن ہماری خواہش ہے لیکن الزاشی تراشی کی بجائے مثبت کرداراداکرناچاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان دہشت گردی کا سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے، افغانستان کی ساری معیشت اور ڈرگ ٹریڈ کی وجہ سے پریشرگروپس چاہتے ہیں یہ جنگ جاری رہے جب کہ افغان مہاجرین کے بارے میں امریکا کی الزام تراشی قابل قبول نہیں۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان امریکہ مذاکرات سے بہتر نتائج کی امید ہے، تمام فریقین چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو، پاکستان مستحکم اور پرامن افغانستان کا حامی ہے،پاکستان نے عظیم قربانیوں کے بعد دہشتگردی نیٹ ورک ختم کیئے۔ہم آخری دم تک دہشتگردی کے خلاف لڑیں گے ، پاکستان اپنے اور عالمی مفاد کی خاطر دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے، افغانستان سے سرحدی نظام کی بہتری کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ ضروری ہے، امریکہ کے ساتھ تعلقات طویل المدتی ہیں۔خطے میں صورتحال پیچیدہ ہے، اور نئی امریکی پالیسی پر اختلاف ہے، پاکستان کے امن کے لیے افغانستان میں امن ضروری ہے، امریکہ کی نئی پالیسی پر کچھ تحفظات ہیں۔امریکہ افغانستان میں بھارت کے کردار کو محدود کرے، افغانستان کے مسائل پر پاکستان کو مورد الزام لگانا غلط ہے، افغانستان میں کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ تنازعات قائم رہیں۔افغانستان میں مشیات کی پیداوار اور لاقانونیت عروج پر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…