منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چیف الیکشن کمشنر کی نئی سرکاری گاڑی ،تحریک انصاف کے اہم رہنما کو ریمارکس بھاری پڑ گئے

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان نے پی ٹی آئی کے رہنماء فواد چوہدری کی میڈیا پر چیف الیکشن کمشنر کی نئی سرکاری گاڑی کی خرید پر حقائق کے برخلاف بیان کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید اور تنبیہ کی ہے کہ کوئی بھی ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کے بارے میں یا چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں دینے سے گریز کیا جائے۔

بدھ کو اپنے بیان میں الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کہا کہ سرکاری قانون و قواعد کے مطابق جب بھی کوئی سرکاری گاڑی اپنی مقررہ مدت پوری کرلیتی ہے تو اس کو ناکارہ قرار دیا جاتا ہے اور نیلام کر دی جاتی ہے اور اس کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرا کے اس کے بدلے میں دوسری گاڑی حاصل کی جاتی ہے۔ یہ قانون مروجہ ضابطوں کے مطابق تمام سرکاری گاڑیوں کے لئے رائج ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جب چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا نے 6 دسمبر 2014ء کو اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو اس وقت سے پہلے ہی پرانی گاڑی نیلام ہو چکی تھی جو کہ پچھلے چیف الیکشن کمشنر کے زیر استعمال تھی اور چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا کے زیر استعمال گاڑی اس مروجہ قانون کے تحت حاصل کی گئی ہے اور مقررہ وقت تک استعمال کے بعد قانون کے مطابق یہ گاڑی بھی ناکارہ قرار دے کر دوسری گاڑی حاصل کی جائے گی جو چیف الیکشن کمشنر خواہ کوئی بھی ہو، ان کے زیر استعمال ہوگی۔ مذکورہ رہنما کا بیان قطعاً غلط اور بے بنیاد ہے اور الیکشن کمیشن اس کی سختی سے تردید کرتا ہے اور تنبیہہ کی جاتی ہے کہ کوئی بھی ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان الیکشن کمیشن جیسے آئینی ادارے کے بارے میں یا چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں دینے سے گریز کیا جائے۔ 1995ء ہی سے تمام چیف الیکشن کمشنرز صاحبان کے زیر استعمال گاڑی رہی ہے جس کی قانون کے مطابق انٹائٹل منٹ ہے۔

ایک مخصوص ٹولہ سوشل میڈیا پر بھی اس طرح کا گمراہ کن پروپیگنڈا چیف الیکشن کمشنر کے خاندان کے بارے میں پھیلا رہا ہے جو قابل مذمت ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے خاندان کے کسی بھی فرد کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں ہے لہذا اس کے خاندان کی سرکاری حیثیت میں قومی فرائض کی ادائیگی کو غلط انداز میں پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔ پاکستان کے ہر شہری بشمول چیف الیکشن کمشنر کے عزیز و اقارب کو اپنا شعبہ اختیار کرنے کا آئینی حق ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے الیکشن کمیشن نہ مرعوب ہوگا اور نہ ہی بلیک میل ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…