منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، ہم نے 12 اکتوبر سے کچھ نہیں سیکھا اور ہم تاریخ کے مزید کتنے مذاق سہیں گے؟جاوید چوہدری کا تجزیہ

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

کارل مارکس نے آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے کیا خوبصورت بات کی تھی‘ اس نے کہا تھا‘ تاریخ ہمیشہ خود کودہراتی ہے‘ پہلے سانحے کی شکل میں اور پھر مذاق کی صورت میں۔آج بارہ اکتوبر ہے‘ آج سے ٹھیک اٹھارہ سال پہلے جنرل پرویز مشرف نے میاں نواز شریف کی منتخب حکومت ختم کر دی‘ یہ ایک سانحہ تھا‘ آج اٹھارہ سال بعد یہ تاریخ خود کو مذاق کی صورت میں دہرا رہی ہے‘ آج میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف دونوں نہ صرف اقتدار سے باہر ہیں بلکہ یہ دونوںاس وقت مقدمے بھی بھگت رہے ہیں‘

شریف فیملی کے دو بچے اشتہاری ہو چکے ہیں‘ جنرل مشرف بھی اشتہاری ہیں‘ شریف فیملی بھی لندن بیٹھی ہے اور جنرل پرویز مشرف بھی دوبئی اور لندن میں مقیم ہیں‘ شریف فیملی کے اکاﺅنٹس بند اور جنرل پرویز مشرف کی جائیدادیں قرق ہو رہی ہیں‘ آپ تاریخ کا مزید مذاق ملاحظہ کیجئے‘ 12کتوبر 1999ءکو میاں نواز شریف کی لڑائی صرف فوج سے تھی‘ یہ آج فوج اور عدلیہ دونوں سے لڑ رے ہیں اوران کے پرانے ساتھی چودھری نثارانہیں مشورے دے رہے ہیں ۔آپ تاریخ کا مزید مذاق بھی ملاحظہ کیجئے آج میاں نواز شریف کو نکالنے والے عمران خان بھی الیکشن کمیشن کے اشتہاری ہو چکے ہیں‘ الیکشن کمیشن نے انہیں گرفتار کر کے کمیشن کے سامنے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے‘ میں اس حکم کو عمران خان کی بجائے حکومت کے خلاف فیصلہ سمجھتا ہوں کیونکہ اگر عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے سٹے آرڈر نہ ملا تو احسن اقبال کو عمران خان کو گرفتار کرنا پڑے گا اور یہ حکومت کیلئے خطرناک ہو جائے گا‘ تاریخ کے اس مذاق میں خورشید شاہ نے بھی مذاق کر دیالہٰذا آپ آج جس طرف بھی دیکھیں آپ کو اشتہاری ہی نظر آتے ہیں یا پھر مذاق ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے‘ آپ کو کوئی مجھے کیوں نکالا‘ میری کمر میں درد ہے‘ مجھے کیوں پکڑا جا رہا ہے اور 2018ءمیں پیپلز پارٹی کا وزیراعظم ہو گا کے نعرے لگاتا دکھائی دے گا لہٰذا ملک 18 سال بعد قانونی‘ آئینی اور سیاسی لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ ٹرمائل کا شکار دکھائی دے رہا ہے‘ کیا ہم نے 12 اکتوبر سے کچھ نہیں سیکھا اور ہم تاریخ کے مزید کتنے مذاق سہیں گے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…