منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شاہد خاقان کے خلاف ثبوت کیلئے قطرجانے کے بجائے شیخ رشید کس ملک جا پہنچے، واپسی پر سامان سےخواتین کے استعمال کی کیا چیزیں برآمد ہوئیں، دھماکہ خیز انکشاف

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)شیخ رشید وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ایل این جی معاہدے میں کرپشن کے ثبوت لینے قطر نہیں بلکہ ہانک کانگ گئے ، فورسیزن ہوٹل میں ٹھہرے اور چکوال کے ریسٹورنٹ میں مفت کھانا کھاتے رہے، معروف صحافی نصرت جاوید عوامی مسلم لیگ کے سربراہ کی ہانگ کانگ میں مصروفیت کی تفصیلات سامنے لے آئے۔تفصیلات کے مطابق

نجی ٹی وی ڈان نیوز کے پروگرام کے میزبان اور سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کی ایل این جی معاہدے کے حوالے سے مبینہ کرپشن کے ثبوت قطر سے لانے کے دعویٰ کو باطل قرار دیتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید ثبوت لینے قطر گئے ہی نہیں بلکہ وہ ہانک کانگ میں تین روز فورسیزن نامی ہوٹل کے کمرہ نمبر 3701میں مقیم رہے ۔ نصرت جاوید نے ہانک کانگ میں شیخ رشید کی مصروفیات کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہانک کانگ میں تین دن پاکستانی کمیونٹی کی مختلف کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرکے گزارے۔ ان تصاویر سے متعلق بات کرتے ہوئے نصرت جاوید کا کہنا تھا کہ کچھ ایسی تصویریں بھی ہیں جن میں چکوال کے لوگ ہیں جن کے ریسٹورنٹ میں یہ مفت کھانا کھاتے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کی ہانگ کانگ میں موجودگی پر پاکستان کے نجی ٹی وی دنیا نیوز نے بھی رپورٹ چلائی مگر لوگ شاید دیکھ نہ پائے، انہوں نے نجی ٹی وی دنیا نیوز کی رپورٹ کے ویڈیو کلپ بھی اپنے پروگرام میں چلوائے جس کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے ہانگ کانگ کے تین روزہ نجی دورے کے دوران مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے عہدیداروں، پاکستانی کمیونٹی اور علمائے کرام سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی کمیونٹی کی سرکردہ

شخصیات ملک حمید احمد، حاجی نسیم خان اور حاجی فدا حسین نے شیخ رشید احمد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا۔ جس میں پاکستان چیمبر آف کامرس ہانگ کانگ کے چیئرمین چوہدری گلزار محمد کے علاوہ پاکستان کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی۔واضح رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے سینئر صحافی و کالم نگار ہارون الرشید بھی یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ شیخ رشید ہانک کانگ گئے تھے

جہاں سے وہ الیکٹرانک اور خواتین کے میک اپ کا سامان لے کر آئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…