منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بہت بڑی خوشخبری ملنے والی ہے،اسفندیارولی خان نے اہم اعلان کردیا

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے قبائلی عوام کی کاوش کو کامیابی سے ہمکنار ہونے پر تمام قبائلی عوام اور پختون قوم کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ قبائلی مشران کے مذاکرات کے نتیجے میں عدالتی دائرہ اختیار اور صوبائی اسمبلی میں فاٹا کی نمائندگی کے مطالبات تسلیم ہونے کی باز گشت سنائی دے رہی ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی اور اس سے ایف سی آر کا خاتمہ ہو جائے گا،

اپنے ایک تہنیتی بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی روز اول سے ہی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں تھی اور اس کیلئے 90ء سے جدوجہد کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ حالیہ مظاہرے اور دھرنے نے فاٹا انضمام کی راہ ہموار کر دی ہے اور امید ہے کہ حکومت جلد از جلد باقی تمام مطالبات بھی تسلیم کر کے فاٹا کے صوبے میں انضمام کا اعلان کرے گی،انہوں نے کامیاب مظاہرے اور دھرنے پر تمام پختونوں ،قبائلی عوام اور بالخصوص اے این پی کی مرکزی و صوبائی قیادت سمیت اضلاع کی تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی نمائندگی پر بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا اورکہا کہ ہم فاٹا انضمام کے مطالبے پر قبائلی عوام کے ساتھ ہیں، اور ہمیشہ ان کی ہر جدوجہد میں ان کا ساتھ دینگے ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی اور قبائلی عوام کا مشترکہ مطالبہ یہی تھا کہ فاٹا کو صوبے میں ضم کر کے اسے عدالتی دائرہ اختیار میں لایا جائے ، ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے ،این ایف سی ایوارڈ میں قبائل کا حصہ دیا جائے اور 2018کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی میں فاٹا کو نمائندگی دی جائے ،انہوں نے کہا کہ عدالتی دائرہ اختیار میں آنے کے بعد انگریز کے کالے قانون کا ازخود خاتمہ ہو جائے گا اور بنیادی انسانی حقوق کی قبائلی عوام تک رسائی ممکن ہو سکے گی،انہوں نے ایک بار پھر اور اس اہم قومی ایشو کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…