جمعہ‬‮ ، 30 جنوری‬‮ 2026 

گاڑیاں توڑنے والے گلو بٹ نے نیا کام شروع کر دیا، بینرز لگ گئے

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کے شیشے توڑتا شاہد عزیز عرف گلو بٹ شاید لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک نیا مقصد ڈھونڈ لیا اور اب گلو بٹ میانمار میں ظلم و ستم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی آواز بن کر سامنے آیا ہے۔کوٹ لکھپت جیل سے اپنی رہائی کے کچھ ہی ماہ بعد گلو بٹ نے سماجی سرگرمیوں کے لیے لاہور کے فیصل ٹاؤن میں واقع

کوٹھا پنڈ فلیٹس کے اطراف میں لوگوں سے رابطہ کیا اور ‘برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بینرز بھی لگوائے۔ان میں سے ایک بینر پر درج ہے، ‘برما کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم اور قتل و غارت روکنے کے لیے گلو بٹ کا ساتھ دیں۔اور گلو بٹ نے صرف اس سلسلے میں الفاظ کا سہارا ہی نہیں لیا، بلکہ حال ہی میں انہوں نے میانمار کے مسلمانوں کی حمایت میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی انعقاد کیا، لیکن اسے میڈیا اور عوام کی اتنی توجہ حاصل نہیں ہوئی، جو اُس کوریج سے بالکل متصادم ہے، جو گلو بٹ کو جون 2014 میں حاصل ہوئی تھی، جب ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر وہ گاڑیوں پر ڈنڈے برساتا نظر آیا تھا۔یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی اس دوران اہلکاروں اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں تصادم ہوا تھا، اسی دوران گلو بٹ نے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑنے شروع کر دیے تھے اور یہ تمام مناظر کیمروں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے۔جس کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کرلیا گیا اور 30 اکتوبر 2014 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں 11 سال قید کی سزا سنائی۔

موضوعات:



کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…