ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

گاڑیاں توڑنے والے گلو بٹ نے نیا کام شروع کر دیا، بینرز لگ گئے

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں گاڑیوں کے شیشے توڑتا شاہد عزیز عرف گلو بٹ شاید لوگوں کے ذہنوں سے محو ہو ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی زندگی کا ایک نیا مقصد ڈھونڈ لیا اور اب گلو بٹ میانمار میں ظلم و ستم کا شکار روہنگیا مسلمانوں کی آواز بن کر سامنے آیا ہے۔کوٹ لکھپت جیل سے اپنی رہائی کے کچھ ہی ماہ بعد گلو بٹ نے سماجی سرگرمیوں کے لیے لاہور کے فیصل ٹاؤن میں واقع

کوٹھا پنڈ فلیٹس کے اطراف میں لوگوں سے رابطہ کیا اور ‘برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بینرز بھی لگوائے۔ان میں سے ایک بینر پر درج ہے، ‘برما کے مظلوم مسلمانوں پر ظلم اور قتل و غارت روکنے کے لیے گلو بٹ کا ساتھ دیں۔اور گلو بٹ نے صرف اس سلسلے میں الفاظ کا سہارا ہی نہیں لیا، بلکہ حال ہی میں انہوں نے میانمار کے مسلمانوں کی حمایت میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی انعقاد کیا، لیکن اسے میڈیا اور عوام کی اتنی توجہ حاصل نہیں ہوئی، جو اُس کوریج سے بالکل متصادم ہے، جو گلو بٹ کو جون 2014 میں حاصل ہوئی تھی، جب ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر وہ گاڑیوں پر ڈنڈے برساتا نظر آیا تھا۔یاد رہے کہ 17 جون 2014 کو لاہور میں پولیس نے پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کے سیکریٹریٹ سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تھی اس دوران اہلکاروں اور عوامی تحریک کے کارکنوں میں تصادم ہوا تھا، اسی دوران گلو بٹ نے وہاں کھڑی گاڑیوں کے شیشے توڑنے شروع کر دیے تھے اور یہ تمام مناظر کیمروں کے ذریعے عوام تک پہنچتے رہے۔جس کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کرلیا گیا اور 30 اکتوبر 2014 کو انسداد دہشت گردی عدالت نے انہیں 11 سال قید کی سزا سنائی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…