جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

’’جسے اللہ رکھے، اسے کون چکھے‘‘ ایبٹ آباد میں مردہ بچا زندہ ہو گیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2017 |

ایبٹ آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایوب میڈیکل کمپلیس میں ڈاکٹرز نے زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا، والدین مبینہ لاش گھر لے گئے تو معلوم ہوا کہ بچہ زندہ ہے۔نجی ٹی وی چینل ’’آج نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ننھی سی جان کو تو اللہ نے محفوظ رکھا لیکن ان مسیحاؤں کا کیا کریں جن کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں غافل ڈاکٹرز نے حد کرڈالی۔نومولود کو مردہ قرار دیکر اسٹریچر پر پٹخ دیا۔والدین

بچے کی مبینہ لاش گھر لے گئے، کچھ گھنٹے بعد انکشاف ہوا کہ بچہ تو زندہ ہے۔ سجاول اب آٹھ روز کا ہوچکا ہے۔دوسری جانب واقعے کی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو ایک ہفتے کے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔دوسری جانب ضلع کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس میں زچگی کے دوران مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی نعشیں کوڑے میں پھینکی جانے لگیں۔نجی ٹی وی کے مطابق ایبٹ آباد کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال ایوب میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ زچہ و بچہ کا عملہ زچگی کے دوران لیبر روم میں دم توڑ جانے والے نومولود بچوں کی نعشوں کی تدفین کے بجائے انہیں کوڑے میں پھینک رہا ہے۔ جہاں یہ نعشیں کتوں اور چیل کووں کی خوراک بن رہی ہیں۔دوسری جانب ایوب میڈیکل کمپلیکس کی انتظامیہ نے اس مجرمانہ اور انسانیت سوز اقدام کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تردید یا تصدیق سے انکار کردیا ہے۔ایوب میڈیکل کمپلیکس میں ہی کام کرنے والے ایک شخص سجاول نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی مجرمانہ غفلت سے متعلق بتایا کہ چند روز قبل اس کی بیوی نے ہسپتال میں ہی بیٹے کو جنم دیا لیکن لیڈی ڈاکٹر نے اسے مردہ قرار دے کر اسٹریچر پر ہی ڈال دیا۔ کچھ دیر بعد جب ماں اپنے بچے کو آخری بار دیکھنے کے لیے وہاں پہنچی تو اس نے بچے میں حرکت کو محسوس کیا ، جس پر پتہ چلا کہ درحقیقت بچہ ناصرف زندہ ہے بلکہ مکمل طور

پر تندرست بھی ہے۔ واقعے کے بعد سجاول اپنی بیوی اور نومولود کو گھر لے آیا۔ سجاول کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث لیڈی ڈاکٹروں اور عملے کے خلاف کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…