جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

اناللہ و انا الیہ راجعون پاکستان کی جانی پہچانی شخصیت کا صبح سویرے انتقال پورے ملک میں سوگ کا سماں

datetime 17  ستمبر‬‮  2017 |

پشاور(این این آئی) پاکستان ٹیلی ویژن پر چالیس سال تک اداکاری کے جوہر دکھانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار افتخار قیصر انتقال کرگئے۔ افتخار قیصر شدید علالت کے باعث گزشتہ چند روز سے پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج تھے، وہ برین ٹیومر کی بیماری میں مبتلا تھے جب کہ ان کے جگر نے بھی کام کرنا بند کردیا تھا ان کے بیٹے حاجب حسنین کے مطابق وہ ذیابیطس اور بلڈ پریشر کی بیماری میں بھی مبتلا تھے۔

چند روز قبل ملک کے نامور اداکار اور شاعر افتخار قیصر کو انتہائی تشویشناک حالت میں پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال لایا گیا تھاجہاں وہ تقریباً 12 گھنٹوں تک بے یارو مددگار پڑے رہے تھے ایمرجنسی وارڈ میں موجود ڈاکٹرز نے یہ کہہ کر ان کا علاج کرنے سے انکار کردیا تھا کہ سینئر ڈاکٹرز کی غیر موجودگی میں وہ ان کا علاج نہیں کرسکتے ، سوشل میڈیا پر اسٹریچر پر بے ہوش پڑے افتخار قیصر کی ویڈیو وائرل ہونے اور میڈیا پر ان کی بیماری کی اطلاع آنے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے ان کا علاج شروع کیا جب کہ صوبائی وزرا نے بھی ذرائع ابلاغ پر خبر نشر ہونے کے بعد نوٹس لیابعد ازاں انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری تھا۔افتخار قیصر کے بیٹے حاجب حسنین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کی بے توجہی کے باعث ان کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا گیا ان کے والد ملک کے ناموراداکار ہیں اور اسپتال انتظامیہ نے انہیں کھلے آسمان تلے اسٹریچر پر بے یارو مددگار ڈال دیا، انہوں نے حکومت سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوگ مہنگے علاج کی استطاعت نہیں رکھتے لہٰذا ان کی مدد کی جائے۔واضح رہے کہ صدارتی ایوارڈ یافتہ اداکار افتخار قیصر پاکستان ٹیلی ویژن پشاور سینٹر پر اپنا مقبول پروگرام ہندکو زبان میں پیش کرتے تھے، ان کا پروگرام’’اب میں بولوں کہ نہ بولوں‘‘ انتہائی مقبول تھا، اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام ’’حرفیوں‘‘ اور’’مخصوص مکالمے‘‘ سے بھی ملک گیر شہرت حاصل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…