اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اہم سیاسی رہنما کے طلاق کے بعد بھی بغیر حلالہ کے مطلقہ خاتون سے تعلقات ،معروف علماء دین نے فتویٰ جاری کردیا

datetime 13  ستمبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی )چیئر مین ورلڈ امن کونسل کے زیر اہتمام مختلف مسالک کے جید علمائے کرام نے مشترکہ موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ طلاق دے کر مکرنا عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور یہ مغربی کلچر کو پروان چڑ ھانے کی سازش ہے جس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا،مذہب کا تمسخر اڑانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کر نا ہو گی۔

ان خیالات کا اظہار علامہ عبدالمصطفیٰ چشتی، مفتی عدنان،پیرعثمان نوری، مو لا نہ رجیع اللہ،حافظ نعمان، محمد جانباز،پر وفیسر ڈاکٹر مسعود احمد مجاہد، علامہ شکیل الرحمان ناصر، مفتی طاہر تبسم ، سید قار الحسنین نقوی اور حافظ زبیر ورک نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ علمائے کرام نے کہا کہ نکاح سنت نبی ؐاور طلاق ناپسندیدہ فعل ہے، نکاح سے مکرنا سنت نبویؐ سے انکار اور طلاق دے کر مکرنا عذاب خداوندی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ملک میں بعض اہم شخصیات اور سابق صو بائی وزیر قانون کی جانب سے طلاق کے بعد بھی بغیر حلالہ کے مطلقہ خاتون سے تعلقات رکھنے کی خبر یں تشویشناک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق کے باوجود مرداور عورت کا میاں بیوی کی حیثیت سے تعلقات رکھنا جائز نہیں ایسا کر نا اسلام کیساتھ مذاق کر نے کے مترادف ہے ۔علمائے کرام نے مزید کہا کہ اسلام نے تین طلاق کے بعد ازدواجی تعلق بالکلیہ ختم کردیا اور رجعت کا حق نہیں دیا کہ اگر تین طلاق کے بعد بھی رجعت کا حق دیدیا جائے تو طلاق کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا اور اسلام کا نظامِ طلاق میاں بیوی کی عافیت کے بجائے وبالِ جان اور مصیبت بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ طلاق کے بعد وہ ایک دوسرے کو میاں بیوی ظاہر کریں اور خاندان میں بھی کسی کو اس کا معلوم نا ہو تو یہ کسی صورت درست نہیں ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ریاستی اداروں کے ساتھ میڈیا کو بھی اسلامی قوانین کا تمسخر اڑانے والوں کیخلاف اپنا کردار ادا کر نا ہو گا تاکہ ملک کو صحیح معنوں میں اسلامی ملک بنایا جا سکے۔آخر میں علمائے کرام نے بر ما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی بھی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…