اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان آبی وسائل کی قلت کے شکار 15 ممالک کی فہرست میں شامل ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 28  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان آبی وسائل کی قلت کے شکار 15 ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا جبکہ پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر موجود ہے۔سینیٹ کے پالیسی ریسرچ فورم کے اجلاس میں چیئرمین واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے فارم کو پالیسی رپورٹ پیش کی اور پاکستان کو پانی کی ممکنہ قلت کے حوالے سے بریفنگ دی۔رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 15 شدید آبی وسائل کی قلت کے شکار ممالک میں شامل ہوگیا

اور پانی کے استعمال کے حوالے سے پاکستان کا چوتھا نمبر ہے جبکہ پاکستان کی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی انتہائی کم ہے۔چیئرمین واپڈا نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پانی کی بدترین قلت کا سامنا ہے جبکہ 2018 تک مہمند اور دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع نہ کی گئی تو ملک میں شدید آبی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر 9 برس میں جبکہ مہمند ڈیم کی تعمیر 6 برس میں مکمل ہوگی۔چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے ڈیموں کی تعمیر انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جبکہ اس وقت پاکستان میں آبی ذخائر سے متعلق کوئی پالیسی موجود نہیں۔کالا باغ ڈیم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈیم کی تعمیر 6 سال میں مکمل ہوگی جس میں 6.1 ایم اے ایف پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا، جس سے ملک میں 3 ہزار 600 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔سابق سینیٹر محمد انور بھنڈر نے کالا باغ ڈیم کے حوالے سے کہا کہ یہ پاکستان مخالف منصوبہ نہیں اور اس کے لیے پنجاب ہر طرح کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کالا باغ ڈیم کو پاکستان مخالف منصوبہ تصور کرنا درست نہیں جبکہ یہ ڈیم ملک کے مفاد میں ہے۔اس موقع پر سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کو پاکستان کے 3 صوبے مسترد کر چکے ہیں، لہٰذا اس ڈیم کے منصوبے پر ایوان میں بات نہ کی جائے۔

افراسیاب خٹک نے کہا کہ واپڈا کا ہر چیئرمین کالا باغ ڈیم کے حق میں بیانات دیتا ہے اور آج بھی اس ڈیم کے حق میں بات کی گئی جو ایک افسوسناک عمل ہے۔پانی کی قلت پر فورم کے اراکین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی قلت کے معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اراکین کا کہنا تھا کہ گذشتہ 20 برس سے مختلف منصوبوں سے متعلق بات کی جارہی ہے مگر اس حوالے سے عملی طور پر ا?ج تک کچھ نہیں ہوا۔پالیسی ریسرچ فورم کے چیئرمین نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ پانی کی قلت سے نمٹنے کے لیے سفارشات تیار کر کے سینیٹ کو بھجوائی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…