ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عدلیہ مخالف تقاریر ،آئینی بغاوت ،نوازشریف کے ساتھ اب کیا ہوگا؟آئینی و قانونی ماہرین نے خطرناک پیش گوئی کردی

datetime 13  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) آئینی و قانونی ماہرین نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ مخالف تقاریر کو آئینی بغاوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نہ صرف سو فیصد توہین عدالت ہے بلکہ پنجاب کی صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت چیئرمین پیمرا بھی برابر کے شریک ہیں‘ آئین کے آرٹیکل 123-A-124-A 17/2 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے، ممبران اسمبلی آئین کے مطابق پارلیمنٹ میں بھی عدلیہ اور فوج کے خلاف بات نہیں کر سکتے۔

ان خیالات کا اظہار مایہ ناز آئینی ماہر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اشرف گوجر ‘ ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایڈووکیٹ اشرف گوجر نے کہا ہے کہ نواز شریف سو فیصد توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں ‘ عدالت کے فیصلے اگر نہیں ماننا تھا تو پھر وزیراعظم ہاؤس کیوں خالی کیا ہے۔ سڑکوں ‘ گلیوں ‘ بازاروں میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ کوئی بھی رکن پارلیمنٹ اسمبلی کے اندر بھی عدلیہ اور فوج کے خلاف بات نہیں کر سکتا اور اگر ایسا وہ کرے گا تو نااہل ہوجائے گا۔ ایدووکیٹ اظہر صدیق نے بتایا کہ نواز شریف نے صرف توہین عدالت نہیں کی بلکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی‘ کابینہ‘ پنجاب حکومت سمیت چیئرمین پیمرا بھی توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اظہر صدیق نے کہا کہ موجودہ حکومت نے آئین سے بغاوت کی ہے۔ نواز شریف جب توہین آمیز تقاریر کررہا تھا تو اس وقت حکومت کو پابندی لگانی چاہیے تھی کہ ہاؤس اریست کرتے۔ چیئرمین پیمرا نے تمام تقاریر لائیو نشر کرکے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں اظہر صدیق نے کہا کہ نواز شریف سمیت پنجاب حکومت‘ وفاقی حکومت ‘ چیئرمین پیمرا کے خلاف آئین کے آرٹیکل 123-A-124-A 17/2 کے تحت کارروائی ہونی چاہیے۔ آئینی ماہر اے کے ڈوگر نے کہاکہ نواز شریف نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کرلیا ہے اس کے بعد تنقید کرنا ان کا حق ہے ۔ فیصلہ کے خلاف جب اپیل کی جاتی ہے تو اس میں بھی متعلقہ فیصلہ کے جج کے خلاف لکھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…