ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ سپر پاکستانی بننا چاہتے ہیں؟ تو چیلنج قبول کرنا پڑے گا، وہ چیلنج کیا ہے؟ تفصیلات جانئے! 

datetime 12  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اس سال ہمیں صر ف آزادی کا جشن ہی نہیں منانا بلکہ کچھ کرکے بھی دکھانا ہے، اسی لئے پراؤڈ ڈاٹ پی کے کی جانب سے’’بی آ سپر پاکستانی‘‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد آزادی کے جشن کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز کی محبت کو فروغ دینا اور انفرادی سطح پر اپنی اصلاح کرنا ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد صرف ایک دن کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ’’سُپر پاکستانی‘‘ بن جائے۔

اس مہم کے تحت اس سال قومیت کے جذبے کوکم یا ختم نہیں ہونے دینا بلکہ باقی 364 دنوں کے لیے زندہ رکھنے کا وعدہ کرنا ہے اور ذمے دار شہریوں میں سے ہر ایک کو تبدیل کرنے کی کوشش کرناہے۔ مہم کا مقصد انسانیت کی کچھ خاصیت جو بھلائی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ زندہ کرنا اور معاشرتی سطح پر اجاگرکرنا ہے تاکہ بہتر انسان بن سکیں اور جو غیر اخلاقی عادات پنپ چکی ہیں انہیں ختم کیاجائے۔ اس مہم میں ہرعام شہری بھی شامل ہو سکتا ہے جس نے سپر پاکستانی ٹیم کی طرف سے ڈیزائن کئے جانے والے چند چیلنجوں کا سامنا کیا اور خود میں اصلاح کی کوشش کی اور پاکستانیت کے جذبے کو بڑھاوا دیا۔ مہم کے تحت آپ خود بھی آگے بڑھیں اور دوسروں کے ساتھ مل کر اس مہم کو آگے بڑھائیں تاکہ ہر پاکستانی جان لے کہ ایک سُپر پاکستانی بننے کے لیے کن کن خصوصیات کا حامل ہونا ضروری ہے۔ ایسی خصوصیات جنہیں اپنانے کے بعد آپ سپر پاکستانی بن کر ملک کی ترقی میں پہلے سے بڑھ کر کچھ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جو بہت ضروری ہے۔ اس مہم کے حوالے سے متعارف کرائے گئے چیلنجز کو ناصرف خود قبول کریں بلکہ دوستوں کو بھی یہ چیلنجز دیے جائیں تاکہ وہ بھی سپر پاکستانی بن سکیں۔ یہ چیلنج بالکل عام ہیں ہر خاص و عام ان چیلنجز کو پورا کرسکتا ہے،

 

بس آج سے ایک عہد کرنا ہے کہ ’’میں ہوں سپر پاکستانی اس لئے میں آ ج کے بعد کبھی بھی ایسا کام نہیں کروں گا/کروں گی جس سے کسی دوسرے کو تکلیف پہنچے یا آنے والی ہماری نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے‘‘۔ ان چیلنجزکو روزمرہ کاموں میں شامل کرنا ہوگا، جیسے پانی ضائع نہ کرنا، اپنا گھر، گلی، محلہ صاف رکھنا، غلطی پر اکڑنے کے بجائے معاف کر دینا، چھوٹوں سے شفقت، بڑوں سے تحمل سے پیش آنا، دفتر میں کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے دوسرے کی دل آزاری ہو۔ صحت مندانہ اور پاکستانیت سے بھر پور زندگی کے رجحان کے ذریعے ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال کرکے اپنے ملک کی ترقی کا دھارا کامیابی کی طرف موڑ ا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…