ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عائشہ گلالئی کے الزامات،عمران خان کی پریس کانفرنس، جواب دیدیا

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز میں نام آنے کے بعد شریف خاندان کو صفائی پیش کرنے کا بھرپور موقع ملا، (ن)لیگ والے چاہے کچھ بھی کرلیں ان کے آگے صرف شکست ہے،نئے وزراء کے ذریعے 200 ارب روپے الیکشن خریدنے کیلئے خرچ کیے جارہے ہیں،ہم پاکستان کے اداروں کے ساتھ ہیں،نواز شریف بتائیں سازش کون کررہا ہے؟، بتایا جائے انہیں سڑکوں پر نکلنے کا اشارہ کس نے کیا؟

،تحریک انصاف کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کی لاہور آمد کے معاملے پر غور کیا جائیگا،چاہتا ہوں عائشہ گلالئی کے الزامات کے حوالے سے تحقیقات ہوں جس نے الزام لگایا وہ ثبوت دے،یہ کوئی انصاف نہیں کہ ایسی کمیٹی بنائی جائے جس میں سارے ہمارے مخالفین موجود ہوں، طاہر القادری کا مطالبہ جائز ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف دلانے میں ان کی مدد کرینگے۔بنی گالہ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ پاناما پیپرز میں نام آنے کے بعد شریف خاندان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا بھرپور موقع ملا، مسلم لیگ (ن) والے چاہے کچھ بھی کرلیں ان کے آگے صرف شکست ہے۔عمران خان نے کہا کہ جب صفائی دینے کا وقت تھا تب شریف خاندان نے کوئی صفائی پیش نہیں کی اور اب کہہ رہے ہیں کہ ان کیخلاف سازش ہوگئی ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف خود ہی بتادیں کہ سازش کون کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کیخلاف بہت بڑی سازش ہورہی ہے، سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دیئے جانیوالا شخص سرکاری خرچ پر لاہور جانیوالا ہے جہاں وہ خود کو مظلوم بناکر پیش کریگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تحریک انصاف کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں نواز شریف کی لاہور آمد کے معاملے پر غور کیا جائے گا، تحریک انصاف پاکستان کے اداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے توکیا ملک کی جیلوں میں موجود لوگ عدالتوں کا فیصلہ صرف اس لئے مانیں کہ وہ غریب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں جتنے بھی چور موجود ہیں ان سب کی چوری کو یکجا کرلیں تو بھی نواز شریف کے ایک بیٹے کے گھر کی قیمت نہیں بنتی۔انہوں نے کہا کہ جب ہم سڑکوں پر نکلے تو ن لیگ کے لوگوں نے کہا کہ عمران خان جمہوریت کو ڈی ریل کرنا چاہتا ہے اور اسے کہیں سے اشارہ ملا ہے،

اب میں نواز شریف سے پوچھتا ہوں کہ کیا اب وہ جمہوریت کو ڈی ریل نہیں کررہے؟، آپ کہتے ہیں کہ سازش ہوگئی، اس بات کا اشارہ کہاں سے آیا ملک سے باہر جو آپ کے خیرخواہ بیٹھے ہیں کہیں انہوں نے تو آپ کو اشارہ نہیں دیا کہ جو پاکستان میں دو ادارے بچے ہوئے ہیں انہیں بھی بدنام کریں؟۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف صرف اپنی کرپشن بچانے کیلئے اداروں کو تباہ کررہے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ ان کا کیس نیب میں چلنے والا ہے جہاں وہ پھنس جائیں گے۔

نواز شریف نیب سے ڈرے ہوئے ہیں، ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ نیب حدیبیہ پیپر ملز کیس پر فوری اپیل کرے، اقامہ حاصل کرنا منی لانڈرنگ کا طریقہ ہے، لوگ منی لانڈرنگ کیلئے اقامہ بنواتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ملک کا وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ بھی دبئی کے شہری ہیں، یہ اب نیب اور سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے وزراء کے ذریعے 200 ارب روپے الیکشن خریدنے کیلئے خرچ کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار جن کے خلاف خود نیب میں کیسز کھلنے والے ہیں انہیں دوبارہ وزیر خزانہ بنادیا گیا ہے۔ (ن) لیگ والے چاہیں جو بھی کرلیں ان کے آگے شکست ہے۔ عائشہ گلالئی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اس معاملے کی تحقیقات ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ گلالئی پر الزام نہیں لگایا جس نے الزام لگایا وہ ثبوت دے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے اپنا مؤقف رکھے گی،

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایسے کمیٹی بنا دی ہے جیسے اس سے بڑا کام ہی کوئی نہیں، انہوں نے کہا کہ ، یہ کوئی انصاف نہیں کہ ایک کمیٹی بنادی جائے جس میں سارے ہمارے مخالفین موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری کی پاکستان آمد خوش آئند ہے، ان کا مطالبہ جائز ہے ،تحریک انصاف سانحہ ماڈل ٹاؤن میں انصاف دلانے میں ان کی مدد کریگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…