ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف اور شہباز شریف کیلئے ایک اور شکنجہ تیار طاہر القادری کی کل وطن واپسی کے ساتھ ہی کیا کام شروع ہو جائے گا، شیخ رشید نے آخری دائو آزمانے کا فیصلہ کر لیا

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی کل وطن واپسی، شیخ رشید اور خرم نواز گنڈا پور کا رابطہ، باقرنجفی کمیشن رپورٹ کے حصول کیلئے قانونی آپشنز اختیار کرنے کا فیصلہ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کی کل وطن واپسی سے قبل ہی سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا۔تحریک انـصاف کے اہم اتحادی

اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا وامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور سے رابطہ ہوا ہے جس میں جسٹس باقر نجفی کمیشن رپورٹ کے حصول کیلئے قانونی آپشنز اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ خرم نواز گنڈا پور نے شیخ رشید کو کل ناصر باغ میں ہونے والے پاکستان عوامی تحریک کے جلسے میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے جلسے میں شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دوسری جانب طاہر القادری کل وطن واپس پہنچیں گے اور ناصر باغ میں جلسہ عام سے خطاب بھی کریں گے ۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے طاہر القادری کی وطن واپسی کے ساتھ ہی حکمران جماعت ن لیگ کے خلاف سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو جائے گا۔ طاہر القادری اپنی وطن واپسی کے بعد آئندہ کا سیاسی لائحہ عمل طے کریں گے جس میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر تحریک چلانے اور دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطوں اور عام انتخابات 2018کے حوالے سے حکمت عملی بھی وضع کی جائے گی۔خیال رہے کہ طاہر القادری پانامہ کیس میں اسلام آباد لاک ڈائون معاملے پر تحریک انصـاف کی مخالفت کر چکے ہیں جس پر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے دئیے گئے بیان پر طاہر القادری نے اسے انتہائی مایوس کن قرار دیا تھا جبکہ اب پانامہ فیصلہ کے بعد طاہر القادری اور عمران خان

جن کو سیاسی کزن کے طور پر کہا جاتا ہے جن کی اسلام آباد لاک ڈائون پر راہیں جدا ہو گئی تھیں ان کے دوبارہ سے ن لیگ کے خلاف اتحاد کیلئے شیخ رشید اور خرم نواز گنڈا پور کے رابطے کو انتہائی اہم نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طاہر القادری اور عمران خان حکمران جماعت کے خلاف دوبارہ سے اتحادی کے طورپر سامنے آتے ہیں تو اس سے

نہ صرف ن لیگ کی مشکلات میں اضافہ ہو گا بلکہ شریف خاندان بھی کافی مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے جبکہ عام انتخابات 2018میں بھی حکمران جماعت کیلئے نئے پہاڑ کھڑے ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…