ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

لکی مروت جلسے میں لوگوں نے عمران خان کیساتھ کیا سلوک کیا کہ وہ تپ کر قابل اعتراض پیغامات بھیجنے لگ گئے؟عائشہ گلالئی کے والد بہت کچھ سامنے لے آئے

datetime 7  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )عائشہ عمران خان کی جانب سے قابل اعتراض پیغامات موصول ہونے پر بہت جذباتی ہوجاتی، قابل اعتراض پیغامات کا سلسلہ لکی مروت جلسے کے بعد شروع ہوا، جلسے میں جب تک عائشہ خطاب کررہی تھی تو لوگ موجود رہے مگر عمران خطاب کرنے آئے تو لوگوں نے جانا شروع کر دیا، گلالئی کو سمجھاتا تھا کہ عمران خان حاسد شخص ہے

یہ کرکٹ کے دور میں بھی اپنے ساتھیوں سے حسد کرتا تھا، عائشہ گلالئی کے والد شمس القیوم وزیر کی جیو نیوز کے پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘میں گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کے پروگرام’’نیا پاکستان ‘‘میں معروف صحافی و تجزیہ کار طلعت حسین کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی جانب سے ان کی بیٹی عائشہ گلا لئی کو قابل اعتراض پیغامات آنا شروع ہوئے تو وہ بہت زیادہ جذباتی(مشتعل)ہوجاتی تھی لیکن میں انہیں صبر اور برداشت کی تلقین کرتا تھا کیونکہ میں ایک استاد رہا ہوں اور ایک استاد کو ہمیشہ صبر اور برداشت سے کام لینا ہوتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے قابل اعتراض پیغامات کا سلسلہ لکی مروت جلسے کے بعد سے شروع ہوا، جلسے میں عائشہ گلا لئی جب تک خطاب کرتی رہی تب تک لوگ موجود رہے لیکن جیسے ہی عمران خان خطاب کرنے آئے تو لوگوں نے جانا شروع کر دیا۔ اس جلسے کے بعد قابل اعتراض پیغام آیا تو گلا لئی جذباتی(مشتعل )ہو گئی لیکن میں نے اسے سمجھایا کہ عمران خان حاسد شخص ہے یہ کرکٹ کے دور میں بھی ساتھیوں سے حسد کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالتوں میں جانے کا کہا جا رہا ہے ،ہمارے پاس حلال کی کمائی ہے ،حرام کے پیسے نہیں ہیں جو مہنگے مہنگے وکیل کراکے عدالتوں میں جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…