جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف ،عمران خان، شہبازشریف،پرویز خٹک اوردیگر اہم سیاسی رہنماؤں نے کتنا ٹیکس دیا؟چونکا دینے والی تفصیلات جاری

datetime 27  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) ایف بی آر کے اراکین پارلیمنٹ کی 2016ء کی ٹیکس گوشواروں کی ڈائریکٹری جاری کردی ہے ۔ جاری ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے 2016 میں 25 لاکھ 24 ہزار 213 روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ایک لاکھ 59 ہزار 609 روپے ٹیکس ادا کیا۔ٹیکس ڈائریکٹری کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2016 میں 95 لاکھ 31 ہزار 60 روپے ٹیکس دیا ،

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 51 لاکھ 65 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا جن میں سے 50 لاکھ 55 ہزار بطور ایسوسی ایشن پرسنز کے طور پر ٹیکس شامل ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے 8 لاکھ 13 ہزار 869 ،وزیراعلیٰ بلوچستان ثنااللہ زہری نے 14 لاکھ 11 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 46 لاکھ 17 ہزارروپے، وزیرداخلہ چوہدری نثار نے 11 لاکھ 92 ہزار 68 روپے، وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق نے 39 لاکھ 83 ہزار 491 روپے ،وزیردفاع خواجہ آصف نے 8 لاکھ 31 ہزار 986 روپے، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 1 لاکھ 4 ہزار 853 روپے ،وزیرپیٹرلیم شاہد خاقان عباسی نے 26 لاکھ 59 ہزار 183 روپے ٹیکس ادا کیا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے 34ہزار 941 روپے، مولانا فضل الرحمن نے 50ہزار 101 روپے ،شیح رشید نے 5 لاکھ 5 ہزار 966 روپے کا ٹیکس جمع کرایا۔پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین نے 5 کروڑ 36 لاکھ 77 ہزار 422 روپے، رکن قومی اسمبلی اسد عمر نے 63 لاکھ 68 ہزار 864 ارب روپے ،مراد سعید نے 34 ہزار 941 روپے ٹیکس ادا کیا۔وزیراعلی پنجاب کے بیٹے حمزہ شہباز نے 70 لاکھ 38 ہزار 777 روپے ٹیکس کی مد میں جمع کرائے۔ سینیٹر روزی خان کاکڑ نے سب سے زیادہ 4کروڑ 99لاکھ 23 ہزار 783 روپے ٹیکس دیا،

سینیٹرتاج محمدآفریدی 3 کروڑ 52 لاکھ 84 ہزار 413 روپے ،سینیٹر محمد طلحہ محمودنے 3 کروڑ 24 لاکھ 95 ہزار 268روپے ،سینیٹراعتزازاحسن 1 کروڑ 38 لاکھ 54 ہزار 833 روپے کاٹیکس اداکیا،سینیٹرفروغ نسیم نے 2کروڑ 2لاکھ 33ہزار 725روپے ٹیکس جمع کرایا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…