جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

’’غریب ڈرائیور کا بیٹا ہوں تو کیا ہوا ۔۔۔؟‘‘

datetime 26  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی مٹی بڑی زرخیز ہے ۔ آپ کے پاس بس دیکھنے والی نظر ہو تو ایک سے ایک بڑا ہیرا یہاں موجود ہے اور ایسی خداد صلاحیتوں کے حامل لوگ جن پر حسد نہیں بلکہ رشک آتا ہے ۔ ایسی ہی ایک مثال فیصل آباد کا حافظ محمد زید ہے جس نے نہ صرف اپنے ماں باپ کا سر فخر سے بلند کیا

بلکہ یہ ثابت کیا کہ علم کسی امیر کی میراث نہیں بلکہ یہ ایک ایسا کندنی تاج ہے جو کسی بھی غریب کے سر سج سکتا ہے ۔ حافظ محمد زید ایک غریب ڈرائیور کا بیٹا ہے جس نے میٹرک کے امتحان میں اپنی دن رات محنت کے ساتھ فیصل آباد بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کی اور اپنے غریب ماں باپ کا سر فخر سے بلند کیا ۔

 



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…