جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نہال ہاشمی توہین عدالت کیس سپریم کورٹ سے آنیوالی خبر نے ہلچل مچا دی

datetime 24  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کی جانب سے مزید مہلت کی استدعا مسترد، دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت، سماعت 21اگست تک ملتوی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں آج توہین عدالت کیس میں نہال ہاشمی کی جانب سے جواب جمع کرانے کی مزید مہلت کی استدعا مسترد کر دی گئی ہے اور دو ہفتوں میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے

۔سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ جس کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل کر رہے ہیں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکاوٹیں ہی ڈالنا ہیں تو کہیں اختتام نہیں ہو گا، جو ماننا تھا مان چکے ہیں، یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہے، گواہ موجود ہیں لہذا کارروائی موخر نہیں کی جائے گی، جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپ اپنا دفاع کریں جو آپ کا حق ہے، شارٹ کٹ نہیں ماریں گے، سن کر ہی فیصلہ کریں گے۔اس موقع پر ڈی جی پیمرا کی جانب سے نہال ہاشمی کی تقریر کی سی ڈی اور متن سمیت تقریر چلانے والے ٹی وی چینلز کی فہرست بھی عدالت میں پیش کی گئی۔نہال ہاشمی کے وکیل حشمت حبیب نے دلائل میں کہا کہ عدالت بتا دے کیا غلطی ہوئی ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ غلطی کا تو اپنے فیصلے میں ہی بتائیں گے، نہال ہاشمی کے وکیل نے کہا کہ وضاحت کے لیے تفصیلی جواب جمع کرانا چاہتا ہوں، عدالت تقریرکا متنازعہ حصہ بتا دے تو ٹھیک ورنہ جو اللہ کو منظور، جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے 66 صفحات کا جواب دیا، جس میں 19 دفاع میں لکھے، اب آپ کو اور کیا کہنا ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم سمجھ گئے ہیں کیا ہو رہا ہے، اس عدالت میں پراسیکیوٹر کہاں ہے جب کہ ڈی جی پیمرا وضاحت یہاں دیں گے یا اڈیالہ جیل میں۔عدالت نے کئی سی ڈیز کے ساتھ ٹرانسکرپٹ نہ ہونے پر

ڈی جی پیمرآدم خان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان بوجھ کر غیر متعلقہ سی ڈیز پیش کی گئیں اور کئی سی ڈیز کے ساتھ ٹرانسکرپٹ بھی نہیں جس پر ڈی جی پیمراہ آدم خان نے کہا کہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو کچھ تھا پیش کر دیا۔ نہال ہاشمی کے وکیل نے ڈی جی پیمرا آدم خان سے استفسار کیا کہا کہ کیا ٹرانسکرپٹ میں کسی جج کا نام لیا گیا جس پر آدم خان

نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی جج کا نام نہیں لیا گیا، سماعت کے دوران عدالت کے اظہار برہمی پر اٹارنی جنرل نے روسٹرم چھوڑ دیا ، ان کا کہنا تھا کہ میں عدالت کو مس لیڈ نہیں کرتا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔وکیل نہال ہاشمی نے عدالت سے کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی

جس پر جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ حشمت حبیب صاحب اس کیس کو 2019 میں نہ لگائیں، عدالت نے نہال ہاشمی سے اپنے حق میں گواہوں کی فہرست طلب کرتے ہوئے گواہوں کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے ازخود نوٹس کیس کی سماعت21اگست تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…