جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

شریف خاندان کے پسینے چھڑوانے والے جے آئی ٹی ممبران واجد ضیا اور بلال رسول کہاں پہنچ گئے، حکومتی آفیسر نے ان کیساتھ کیا سلوک کیا؟

datetime 22  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد کلب میں جے آئی ٹی ممبران کا والہانہ استقبال، لوگوں نے گھیر کر سیلفیاں لینی شروع کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے جے آئی ٹی ممبران بلال رسول اور جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کی سکیورٹی حصار میں اسلام آباد کلب آمد کے موقع پر وہاں موجود افراد نے دونوں کا شاندار استقبال کیا ۔

اس موقع پر وہاں موجود لوگوں نے بلال رسول کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بلال رسول جے آئی ٹی بننے سے قبل روزانہ اسلام آباد کلب میں موجود جم جایا کرتے تھے اور جے آئی ٹی بننے پر انہوںنے جم جانا چھوڑ دیا تھا اور اب جب جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی جا چکی ہے اور جے آئی ٹی کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے تو بلال رسول نے ایک بار پھر جم جانا شروع کر دیا ہے۔ واجد ضیا بھی اسلام آباد کلب کے ممبران میں شمار ہوتے ہیں ، جے آئی ٹی سربراہ جب رینجرز کے حصار میں اسلام آباد کلب پہنچے تو وہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا اور وہاں موجود ایک گورنمنٹ آفیسر نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ رہنے والے واجد ضیا نے تاریخی الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا کام کر دیا، اب سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔جے آئی ٹی سربراہ جب رینجرز کے حصار میں اسلام آباد کلب پہنچے تو وہاں ان کا زبردست استقبال کیا گیا اور وہاں موجود ایک گورنمنٹ آفیسر نے ان کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر جے آئی ٹی کے سربراہ رہنے والے واجد ضیا نے تاریخی الفاظ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا کام کر دیا، اب سپریم کورٹ پر ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…