جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

تمہارا لیڈر غدار ہے ۔۔۔! مشاہد اللہ کے ایک اور بیان پر تنازعہ کھڑاہوگیا

datetime 18  جولائی  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن )کے سینیٹر مشاہداللہ خان کے بیان پر اپوزیشن جماعتیں سراپاً احتجاج بن گئیں اپوزیشن ارکان کے شورشرابے سے ایوان کا ماحول انتہائی تلخ ہو گیا تاہم چیئرمین میاں رضا ربانی نے بروقت مداخلت کر کے معاملہ کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا ۔ منگل کو سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ آصف علی زرداری نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا حسین حقانی غدار ہے ٗ

طاہر مشہدی جیسے لوگوں نے اپنی جان بچانے کیلئے اپنے ساتھ پاکستان لگا لیا اس پر ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے ارکان کھڑے ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا مشاہد اللہ خان نے کہا کہ نواز شریف نے ملکوں کو اکھٹے کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کیاجسکی وہ سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے غدار پال رکھے تھے ٗ مشہدی صاحب کا تو لیڈر پاکستان پر حملے کا حکم دیتا تھا بانی ایم کیو ایم جوان کا لیڈر ہے وہ غدار ہے۔مشاہداللہ خان نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بانی ایم کیو ایم نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کی پناہ گاہ ہے اس پرحملہ کرو، مشاہداللہ خان نے کہا کہ اعظم سواتی کے لیڈر نے تو انکو یہی سکھایا ہے ٗمشاہد اللہ کے بیان پر تمام اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج بن گئیں اور ایوان ہنگامہ آرائی کا منظر پیش کرنے لگا اسی شورشرابے کے دوران مشاہد اللہ خان نے کہا کہ طاہر مشہدی بیٹھ جاؤ تمہارا لیڈر غدار ہے ٗاعظم سواتی خود امریکا سے مفرور ہیں،تم اپنا ماضی بھول گئے ہو ٗچیئرمین سینٹ نے اس موقع پر مداخلت کی اور اپوزیشن کوخاموش رہنے کی ہدایت کر دی جس پر اپوزیشن اراکین نشستوں پر بیٹھ گئے۔سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اچھل اچھل کے حملے کریں گے اور پھر جواب سننے کی ہمت نہیں کریں گے اس پر چیئر مین سینٹ نے مشاہد اللہ خان سے کہا کہ ابھی آپ آرام کر لیں پھر موضوع پر بات کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…