جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

اغوا کے بعد قتل ہونے ہونے والے چینی شہری پاکستان میں کن کاموں میں ملوث تھے ؟

datetime 15  جون‬‮  2017 |
    بیجنگ (آئی این پی) چین   پاکستان میں اغوا کے بعد قتل ہونیوالے اپنے دوچینی شہریوں کے بارے میں اس رپورٹ کی تصدیق و تفتیش میں تعاون جاری  رکھے گا  کہ وہ مبینہ طورپر غیر قانونی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔یہ بات وزارت خارجہ کی ترجمان لوکانگ نے ایک پریس ریلیز میں ان اطلاعات کے بعد جاری کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستان  نے دو چینی شہریوں کی موت کی تصدیق کر دی ہے
اور یہ کہ وہ پاکستان میں غیر قانونی تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف تھے تا ہم چین نے ابھی تک پاکستان کی طرف سے ان دونوں کی موت کے بارے میں سرکاری طورپر تصدیق نہیں کی اور وہ اپنی طرف سے  جلد از جلد پوری کوشش  کرے گا کہ اس بات کی تصدیق کر سکے ۔ترجمان لوکانگ نے مزید کہا کہ چین ہر قسم کی دہشتگردی ، انتہاپسندی اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کی سخت مخالفت کرتا ہے او  ر وہ دہشتگردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے  تحفظ  کیلئے پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے  ۔انہوں نے مزید کہا کہ چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر دہشتگردی کیخلاف جنگ  جاری رکھے گا ۔انہوں نے دویرغمالیوں کو رہا کرانے،چینی شہریوں اور ان کے اداروں کے پاکستان میں بہتر تحفظ کیلئے  پاکستانی عزم کی تعریف کی ۔ترجمان نے کہا کہ چین نے ہمیشہ اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ضابطوں کی پابند  ی کریں ، مقامی روایات کا احترام کریں ، اور غیر ممالک میں خطرات سے ہمیشہ باخبر رہیں ، چین مبینہ طورپر  غیر قانونی تبلیغی سرگرمیوں کے سلسلے میں  کی جانیوالی تحقیقات میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کر ے گا ، پاکستان کے و  زیر داخلہ چوہدری نثار نے گذشتہ  روز  اپنی وزارت کو ہدایت کی تھی کہ وہ چینی شہریوں کو ویزا جاری کرنے کے عمل کو باقاعدہ بنانے ا ور ایک سسٹم کے تحت لانے کے لئے موجود ہ طریقہ کار پر نظرثانی کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…