جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ کو معلوم ہے لاہور سے دہلی تک پہنچنے کیلئے ایک ایٹمی میزائل کو کتنے منٹ درکار ہیں؟ جواب جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے

datetime 31  مئی‬‮  2017 |

اسلام آبد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایٹمی ہتھیار لے جانے والے میزائل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کہلاتے ہیں۔ اسے بنیادی طور پر ایٹمی ہتھیار لیجانے کیلئے ہی بنایا جاتا ہے۔ اگرچہ روایتی ، کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیار لیجانے کیلئے بھی اس میزائل کو استعمال کیاجاسکتا ہے

لیکن عملی طور پر انہیں صرف ایٹمی ہتھیاروں کو لیجانے کیلئے تیار کیا جاتا ہے ۔ جدید ترین بین البراعظمی بلیسٹک میزائل ایک سے زائد ایٹمی ہتھیار لیجانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں جنہیں مختلف اہداف پر گرایا جا سکتا ہے۔ ان کی مختلف اقسام درمیانی رینج کے بلیسٹک میزائل ، کم رینج بلیسٹک میزائل اور ٹیکٹیکل بلیسٹک میزائل ہیں۔ کم اور درمیانی رینج والے بلیسٹک میزائلوں کو مجموعی طور پر تھیٹر بلیسٹک میزائل بھی کہا جاتا ہے۔بین البرعظمی بلیسٹک میزائل کی انتہائی رفتار چھ سے سات کلو میٹر فی سیکنڈ ہوتی ہے۔ پاکستان کے سرحدی شہر لاہور سے بھارت کے دارلحکومت دلی کا فضائی فاصلہ 412 کلو میٹر ہے، یعنی لاہور سے چلایا گیا بین البرعظمی بلیسٹک میزائل تقریباً ایک منٹ ساڑھے تین سیکنڈ بعد دلی میں ہو گا۔ اسی طرح لاہور سے داغے گئے میزائل کو پورے بھارت کے اوپر سے اڑتے ہوئے اس کی مشرقی سرحد پر واقع کلکتہ شہر کو نشانہ بنا نا ہو تو اس کیلئے تقریباً ساڑھے چار منٹ درکار ہونگے۔ لاہور سے کلکتہ کا فاصلہ 1705 کلو میٹر ہے۔ جنوب میں بھارت کا دور دراز ترین سرحدی شہر کنیا کماری ہے ، جس کا لاہور سے فاصلہ 2628 کلو میٹر ہے۔ یعنی لاہور سے بھارت کے جنوبی کونے تک میزائل پونے سات منٹ میں پہنچے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…