منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،کلبھوشن کواب پھانسی ہی ہوگی ،واضح اعلان کردیاگیا

datetime 18  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد /لندن(آئی این پی)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دبا ؤ کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائیگا، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،عالمی عدالت انصاف کا یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا، کلبھوشن پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کیلئے نہایت سرگرم رہا

اب کلبھوشن کیلئے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں،بھارتی جاسوس کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو پلیٹ فارم ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی، اسے تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جا رہی تھی۔برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن جادھو کی پھانسی میں تاخیر نہیں کی گئی بلکہ قانونی کارروائی کا ٹائم فریم طے ہے جس پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔بھارت اور پاکستان کے درمیان اعتماد سازی کے لیے کسی مرحلے پر کلبھوشن یادو کی بھارت کو حوالگی کے امکان کو رد کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ کلبھوشن جادھو پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کے لیے نہایت سرگرم رہے ہیں، جس جرم کے لیے قانونی چارہ جوئی کا طریقہ کار مکمل تھا، جس کے بعد اب کلبھوشن کے لیے کسی قسم کے ریلیف کا کوئی امکان نہیں۔عالمی عدالت انصاف کے سامنے آنے والے فیصلے میں پاکستان کا موقف تسلیم نہ کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کیس کے مندرجات پر تو ابھی بحث ہی نہیں ہوئی صرف فوری سزائے موت پر حکم امتناع آیا ہے۔انھوں نے کہا کہ کیس پر بحث کے دوران پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان نے جاسوسی جیسے معاملے پر اپنے تمام قانونی تقاضوں کے مطابق کام کیا ہےانھوں نے کہا کہ کلبھوشن کی سزائے موت پر ‘حکم امتناع تو بس رسمی ہے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ پاکستان کی قومی سلامتی سب سے مقدم ہے اور کلبھوشن کیس میں کوئی بھی فیصلہ بیرونی دبا کے بجائے قومی سلامتی کو دیکھتے ہوئے کیا جائیگا۔ہماری سب سے اہم ترجیح ہماری قومی سلامتی ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔وزیر دفاع نے کہا کہ یہ صرف عبوری فیصلہ ہے اور اس سے کسی کی جیت یا ہار کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ‘کلبھوشن جادھو کے پاس اپنی سزا کے خلاف اپیل کرنے کے لیے دو پلیٹ فارم ہیں، وہ سپریم کورٹ کے پاس بھی جا سکتے ہیں اور پھر صدر کے پاس بھی۔ اور ان کو تو ویسے بھی ابھی پھانسی نہیں دی جا رہی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…