بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

اردو کی کوئی سرزمین نہیں ہے۔ پاکستان کی کیسے ہو سکتی ہے۔؟پاکستانی سیاستدانوں کاحیرت انگیز موقف ،سینٹ میں نئے فیصلے کی منظوری دیدی گئی

datetime 10  مئی‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)سینٹ میں اپوزیشن لیڈر چوہدری اعتزاز احسن نے اپنی ہی جماعت کے سابق وزیر قانون سینیٹر فاروق ایچ نائیک پر واضح کر دیا ہے کہ اردو اردو ہی رہے گی۔ انہوں نے صوبوں کی زبانوں کی آئینی حیثیت تسلیم کئے جانے کے موقع پر دعائے خیر کیلئے مولانا فضل الرحمن کی کمی کو محسوس کیا ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ تحریک پاکستان کی زبان بھی اردو ہی تھی۔  انگریزی ہماری دھرتی کی زبان نہیں ہے

بدھ کو سینٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف میں اپوزیشن لیڈر کے ان گلے شکوؤں پر سابق وزیر قانون و انسانی حقوق میں یہ دلچسپ نوک جھونک ہوئی۔ فاروق ایچ نائیک نے اردو کو پاکستانی زبان قرار دینے کے بارے میں دلائل دئیے اور کئی ممالک کی مثالیں دیں۔ چوہدری اعتزاز احسن کے موقف پر وہ خاموش ہو گئے۔ مسلم لیگ(ن) کے نہال ہاشمی نے بھی اپوزیشن لیڈر کی تائید کی اور کہا کہ اردو اردو ہی رہے گی۔ بھارت میں بھی بولی جاتی ہے۔ انگریزی ہماری دھرتی کی زبان نہیں ہے۔ انگریزی سامراج اور استحصالیوں کی زبان ہے۔ ہم اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ اردو کی کوئی سرزمین نہیں ہے۔ پاکستان کی کیسے ہو سکتی ہے۔ ہماری قومی رابطہ کی آسان فہم زبان ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اردو کو کوئی اور حیثیت دینے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوں گے۔ اردو کو اردو ہی رہنے دیں انھوں نے وفاقی اکائیوں کی زبانوں کی آئینی حیثیت تسلیم کرنے سے متعلق بل کی منظوری پر شکر ادا کیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن موجود ہوتے تو اس اچھے کام پر دعا کروادیتے ۔ اردو کو کوئی اور حیثیت دینے کی کوشش کی جائے گی تو اس سے ہمارے جذبات مجروح ہوں گے۔ اردو کو اردو ہی رہنے دیں انھوں نے وفاقی اکائیوں کی زبانوں کی آئینی حیثیت تسلیم کرنے سے متعلق بل کی منظوری پر شکر ادا کیا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمن موجود ہوتے تو اس اچھے کام پر دعا کروادیتے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…