منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کون عمران خان ؟ میں ان کو نہیں جانتا ۔۔ سردار ایاز صادق نے کپتان کے بارے میں ایسا کیوں کہا ؟

datetime 3  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی سردارایاز صادق نے کہا ہے کہ عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کی تفصیلات ہیں مگر بتاؤں گا نہیں ‘آرمی چیف سے کوئی بھی مل سکتا ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ‘فوجی عدالتوں کا فیصلہ مجبوری سے کیا ہے پانامہ کیس کا جو بھی فیصلہ آئیگا ہم اس کو تسلیم کر یں گے‘وزیر اعظم نوازشریف ہمیشہ سے عدالتوں سے کا احترام کرتے ہیں ‘ ‘

کچھ لوگوں نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو متنازعہ بنانے کی کوشش کیں ہیں ‘(ن) لیگ کی حکومت ملک میں لوڈشیڈ نگ سمیت تمام مسائل کا حل کر یگی اور ملک میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے ‘عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے ۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ مکمل طور پرحل ہو جائیگا اور ماضی کے مقابلے میں آج ملک میں لوڈشیڈ نگ انتہائی کم ہے اور حکومت نے وعدہ کر رکھا ہے کہ 2018کے انتخابات تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائیگا ۔ ایک سوال کے جواب میں سردار ایاز صادق نے کہا کہ عمران خان کون ہیں؟میں انکو نہیں جانتا اس لیے کسی سنجیدہ شخص کی بات کی جائے تو اچھا ہوگا جہاں تک انکی آرمی چیف سے ملاقات کا تعلق ہے تو میں اسکی تفصیلات جانتا ہوں مگر بتاؤں گا نہیں اور ویسے آرمی چیف سے کوئی بھی ملاقات کر سکتا ہے اس میں کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سب سے ملکر مشتر کہ طور پر فوجی عدالتوں میں توسیع کا فیصلہ کیا مگریہ فیصلہ مجبوری کے تحت ہی کیا گیا مگر اب سب جماعتیں فوجی عدالتوں پر متفقہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ کب آتا ہے یہ سپر یم کورٹ کو ہی پتہ ہے مگر وزیر اعظم نوازشریف اور حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ جو بھی فیصلہ آئیگا وہ ہم تسلیم کریں گے اس لیے سب کو فیصلے کا انتظار کر نا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سر مایہ کاری آج ہے ماضی میں اسکی کوئی مثال نہیں ملتی چین کی جانب سے بھی اربوں روپے کی سر مایہ کاری پاکستان میں آئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…