جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی تو اک بہانہ ہے ۔۔راحیل شریف دراصل کس مشن پر ہیں؟ دھماکہ خیز انکشاف

datetime 29  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی فوجی اتحاد کی قیادت پر راحیل شریف کو جی ایچ کیو کا اعتماد حاصل ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر کی ملاقات میں اس حوالے سے اہم بات چیت ہوئی ہے۔ موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب، ایران اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر کے عرب ممالک اور ایران کو

یقین دہانی کرائی کہ 39ملکی اتحاد یمن یا ایران کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کا پاکستانی انگریزی اخبار سے اظہار خیال ۔دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب کے حوالے سے معروف صحافی انصار عباسی نے لکھا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ عرب ممالک دراصل پاک عرب تعلقات میں نیا موڑاورکئی غلط فہمیاں دور کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ 23مارچ کو دبئی کے برج الخلیفہ پر پاکستان کے جھنڈے کی عکاسی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کے ساتھ کامیاب ملاقاتوں کا ہی نتیجہ ہے۔انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ راحیل شریف کی اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی سعودی درخواست دراصل ایران کے تحفظات اوراس کو یقین دہانی کے بعد منظور کی گئی جس میں آرمی چیف نے پاکستان میں ایرانی سفیر کو یہ بآور کروایا ہے کہ اسلامی فوجی اتحاد راحیل شریف کی سربراہی میں ایران اور یمن کے حوالے سے سرگرم نہیں ہو گااور نہ ہی پاکستان ایران مخالف کسی اتحاد کا حصہ بنے گا بلکہ اسلامی فوجی اتحاد دراصل دہشتگردی کے خلاف کثیر ملکی اسلامی اتحاد ہے جس کا مقصد داعش کو نشانہ بنانا ہے۔ آرمی چیف نے ایرانی سفیر کیساتھ ملاقات میںکہا ہے کہ چاہ بہار بندرگاہ پر بھارت ایران تعاون پرتحفظات نہیں کیونکہ ایران کیساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات ہیں اور ایران اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے والا ملک ہے۔ آرمی چیف نے اس حوالے سے ایرانی سفیر سے ایران اور سعودی عرب کشیدگی کے خاتمے کیلئے پاکستانی خواہشات سے بھی آگاہ کیا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…