منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے ذریعہ بھرتیوں کا عمل متنازع ہوگیا 

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) سندھ پولیس میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (این ٹی ایس) کے ذریعہ بھرتیوں کا عمل متنازع ہوگیا ہے ۔جعلسازی کے ذریعہ امیدواروں کی درخواستوں پرغیر ضروری اعتراضات لگاکر ان کو درست کرنے کے لیے فیکس نمبر فراہم کیا گیا جو کہ مسلسل بند جاتا رہا ۔این ٹی ایس کے منتظمین اور حکومت کی جانب سے توجہ نہ دیئے جانے کے باعث امیدواروں کا این ٹی ایس کی شفافیت سے اعتماد اٹھتا جارہا ہے ۔ذرائع کے مطابق

آئی جی سندھ کے احکامات پر محکمہ پولیس میں پہلی مرتبہ این ٹی ایس کے ذریعہ بھرتیوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔سندھ پولیس میں اس وقت گریڈ ایک سے گریڈ 14 تک کی نائب قاصد، مالی، ڈرائیور، الیکٹریشن، خاکروب، شیف، مکینک اور دیگر اسامیوں پر بھرتیو ں کے حوالے سے درخواستیں جمع کرائی گئیں ۔ این ٹی ایس کے تحت بھرتی کا مقصد اس عمل کو مزید شفاف بنانا تھا ۔تاہم این ٹی ایس کے ذریعہ دی گئی درخواستوں کا عمل تنازعات کا شکار ہوگیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ تحریری ٹیسٹ مکمل طور پر این ٹی ایس کے ذریعے لیے گئے بعد ازاں این ٹی ایس اسلام آباد سے سے ٹیسٹ پاس کرنے والے امیدواروں کو ایک میسج کے ذریعے 21مارچ کو پیغام بھیجا گیا کہ آپ کی درخواست میں کچھ غلطیاں ہیں اس کو درست کرانے کے لیے اسلام آباد این ٹی ایس کے دفتر میں 24مارچ تک لگائے جانے والے اعتراض کو ختم کر لیں بعدازاں ان کی درخواست قابل قبول نہیں ہوگی ۔اس حوالے سے ایک فیکس نمبر بھی دیا گیا جس پر اعتراضات درست کرانے تھے تاہم مذکورہ فیکس نمبر مسلسل بند جاتا رہا جس کی وجہ سے امیدواروں اپنے اعتراضات کو دور نہیں کراسکے اور درخواست دینے والوں کو شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ۔فیکس نمبر بند ہونے کے حوالے سے امیدواروں نے متعدد بار ٹیلی فون پر این ٹی ایس حکام کو آگاہی دی لیکن اس پر کان نہیں دھرے گئے ۔این ٹی ایس ٹیسٹ میں سنگین نوعیت

کی بے قاعدگی سامنے آنے کے بعد امیدواروں کا این ٹی ایس پر سے اعتماد ختم ہورہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ این ٹی ایس کے ٹیسٹ کے ذریعہ من پسند افراد کو بھرتی کروانے کا عمل شروع ہوگیا ہے جس میں سرکاری محکموں کے حکام اور اہلکار بھی پوری طرح ملوث ہیں۔اس ضمن میں متاثرہ درخواست گذاروں کا کہنا ہے کہ ین ٹی ایس کو شفاف بنانا ممکن نہیں تو اسے ختم کیا جائے تاکہ بیروزگار نوجوانوں کو کم از کم ہر ٹیسٹ کے عوض فیس تو جمع کرانے سے نجات ملے ہمارے لیے قابلیت کی جانچ اور شارٹ لسٹنگ بڑا مسئلہ نہیں بڑا مسئلہ بد عنوانی سفارش اور ملی بھگت ہے جس سے معاشرے کو پاک کئے بغیر حقداروں کو حق ملنے کی توقع نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…