منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

بچوں پر تشدد اورپیسوں کے عوض صلح ،وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے دنیا کوحیران کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی ) وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ گھریلو ملازم بچوں پر تشدد کے واقعات میں ان کے والدین کا ملزمان سے پیسوں کے عوض صلح کر لینا درست اور قانونی فعل ہے۔ گھریلو ملازمین کے قانونی حقوق کے بارے میں بی بی سی کی خصوصی رپورٹس کے سلسلے میں دئیے گئے ایک انٹریو میں رانا ثنااللہ نے ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا جو نقصان ہوا ہے اس کے عوض اگر اسے مناسب رقم مل جاتی ہے اور

وہ اس مطمئن ہے تو پھر اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی تشدد کرنے والے کو ایک طرح کی سزا ہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ تشدد کے شکار بچوں کے والدین تشدد کرنے والوں سے پیسے لے کر صلح کر لیتے ہیں اور اس طرح بچوں کے خلاف جرم کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچتے، تو صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پیسوں کی ادائیگی بھی ایک طرح کی سزا ہے جو جرمانے کی ہی ایک صورت ہے۔لوگ پولیس کو بیان دینے کے بعد اگر عدالت میں اس سے مکر جاتے ہیں تو اس میں قانون کیا کر سکتا ہے۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کو روکنے کے لیے کسی خصوصی قانون کی ضرورت بھی نہیں ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ کسی بھی شخص، چاہے وہ بڑا ہو یا بچہ، اگر تشدد ہوتا ہے تو اس کے خلاف پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ ہر بات پر ایک الگ اور خصوصی قانون بنا دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو قانون پر عملداری میں رکاوٹ ہوتی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چونکہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ اگر تشدد یا زیادتی ہوتی ہے تو وہ چار دیواری کے اندر ہوتی ہے اور اس میں پولیس مداخلت اس لیے نہیں کر سکتی کہ اس صورت میں چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے۔’اگر پولیس کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جائے تو پھر اس طرح تو پولیس ہر کسی کے گھر میں داخل ہو سکے گی اور اس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…