جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بچوں پر تشدد اورپیسوں کے عوض صلح ،وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے دنیا کوحیران کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور (آئی این پی ) وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ گھریلو ملازم بچوں پر تشدد کے واقعات میں ان کے والدین کا ملزمان سے پیسوں کے عوض صلح کر لینا درست اور قانونی فعل ہے۔ گھریلو ملازمین کے قانونی حقوق کے بارے میں بی بی سی کی خصوصی رپورٹس کے سلسلے میں دئیے گئے ایک انٹریو میں رانا ثنااللہ نے ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا جو نقصان ہوا ہے اس کے عوض اگر اسے مناسب رقم مل جاتی ہے اور

وہ اس مطمئن ہے تو پھر اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی تشدد کرنے والے کو ایک طرح کی سزا ہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ تشدد کے شکار بچوں کے والدین تشدد کرنے والوں سے پیسے لے کر صلح کر لیتے ہیں اور اس طرح بچوں کے خلاف جرم کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچتے، تو صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پیسوں کی ادائیگی بھی ایک طرح کی سزا ہے جو جرمانے کی ہی ایک صورت ہے۔لوگ پولیس کو بیان دینے کے بعد اگر عدالت میں اس سے مکر جاتے ہیں تو اس میں قانون کیا کر سکتا ہے۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کو روکنے کے لیے کسی خصوصی قانون کی ضرورت بھی نہیں ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ کسی بھی شخص، چاہے وہ بڑا ہو یا بچہ، اگر تشدد ہوتا ہے تو اس کے خلاف پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ ہر بات پر ایک الگ اور خصوصی قانون بنا دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو قانون پر عملداری میں رکاوٹ ہوتی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چونکہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ اگر تشدد یا زیادتی ہوتی ہے تو وہ چار دیواری کے اندر ہوتی ہے اور اس میں پولیس مداخلت اس لیے نہیں کر سکتی کہ اس صورت میں چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے۔’اگر پولیس کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جائے تو پھر اس طرح تو پولیس ہر کسی کے گھر میں داخل ہو سکے گی اور اس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا رہے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…