جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بچوں پر تشدد اورپیسوں کے عوض صلح ،وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے دنیا کوحیران کردیا

datetime 28  مارچ‬‮  2017 |

لاہور (آئی این پی ) وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ گھریلو ملازم بچوں پر تشدد کے واقعات میں ان کے والدین کا ملزمان سے پیسوں کے عوض صلح کر لینا درست اور قانونی فعل ہے۔ گھریلو ملازمین کے قانونی حقوق کے بارے میں بی بی سی کی خصوصی رپورٹس کے سلسلے میں دئیے گئے ایک انٹریو میں رانا ثنااللہ نے ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا جو نقصان ہوا ہے اس کے عوض اگر اسے مناسب رقم مل جاتی ہے اور

وہ اس مطمئن ہے تو پھر اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ بھی تشدد کرنے والے کو ایک طرح کی سزا ہی ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ تشدد کے شکار بچوں کے والدین تشدد کرنے والوں سے پیسے لے کر صلح کر لیتے ہیں اور اس طرح بچوں کے خلاف جرم کرنے والے اپنے انجام کو نہیں پہنچتے، تو صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ پیسوں کی ادائیگی بھی ایک طرح کی سزا ہے جو جرمانے کی ہی ایک صورت ہے۔لوگ پولیس کو بیان دینے کے بعد اگر عدالت میں اس سے مکر جاتے ہیں تو اس میں قانون کیا کر سکتا ہے۔صوبائی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کو روکنے کے لیے کسی خصوصی قانون کی ضرورت بھی نہیں ہے۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ کسی بھی شخص، چاہے وہ بڑا ہو یا بچہ، اگر تشدد ہوتا ہے تو اس کے خلاف پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔میں اس بات کا قائل نہیں ہوں کہ ہر بات پر ایک الگ اور خصوصی قانون بنا دیا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو قانون پر عملداری میں رکاوٹ ہوتی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ چونکہ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ اگر تشدد یا زیادتی ہوتی ہے تو وہ چار دیواری کے اندر ہوتی ہے اور اس میں پولیس مداخلت اس لیے نہیں کر سکتی کہ اس صورت میں چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا ہے۔’اگر پولیس کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جائے تو پھر اس طرح تو پولیس ہر کسی کے گھر میں داخل ہو سکے گی اور اس طرح چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہوتا رہے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…