پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

’’اپنے بچوں کا خیال رکھا کریں‘‘ معاشرے کے حالات اس وقت کیا ہیں؟یہ تحریر تمام والدین کو ضرور پڑھنی چاہئے

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بچوں کے اغواکے مسلسل واقعات نے جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پریشان کر رکھا وہیں والدین بھی فکر مند نظر آتے، آئے روز کے دل دہلا دینے والے واقعات نے والدین کی نیندیں اڑا رکھی ہیں اور وہ اپنے بچوں کے حوالے سے شدید بے چینی کا شکار رہتے ہیں ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ کراچی میں چند روز قبل پیش آیا جہاں قطر ہسپتال

سے نومولود کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق چند دن قبل کراچی کے علاقہ اورنگی ٹائون میں واقع قطر ہسپتال سے اغواہونے والا نومولود بچے کے اہلخانہ کی نشاندہی پر پولیس نے ملزمہ مسرت کو گرفتار کر لیا تھاجس کے بعد اغوا کی گتھیاں سلجھتی چلی گئیں۔ ملزمہ نے گرفتاری کے بعد فرفر بولنا شروع کر دیا۔ ملزمہ کی نشاندہی پر گزشتہ روزپولیس نے افغان بستی میں چار مختلف مقامات پر چھاپے مار کر چار خواتین سمیت گیارہ ملزمان کو گرفتار کر کے بچے کو بحفاظت بازیاب کرا لیاتھاجنہیں آج عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں عدالت نے4خواتین ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے اور7مرد ملزمان کا ریمانڈ پولیس کو دے دیا ۔ذرائع نے واقع کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تھانے پہنچتے ہی تمام ملزمان اپنے آپ کو بے گناہ قرار دیتے رہے اور نئی نئی کہانیاںپولیس کو سناتے رہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں غیر ملکی افغان باشندے بھی شامل ہیں جو سپرہائی وے کراچی کی افغان بستی میں مقیم تھے ۔ اس بستی سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ افغانیوں کی وجہ سے یہ بستی جرائم کا مرکز بن چکی ہےجہاں شہر بھر کے ہسپتالوں سے معصوم بچے اغوا کر کے لائے جاتے ہیں۔ افغان بستی منشیات فروشی، عصمت فروشی، کرائے کے قاتلوں اور اغواء برائے تاوان کے مجرموں کا گڑھ ہے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اغوا ہونے والے نومولود بچے کو محض آٹھ ہزار روپے کیلئے ملزمہ مسرت نے افغان بستی میں بیچ دیا جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بازیاب کرکے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کا کہنا ہے کہ نومولود بچے کو آٹھ ہزار کے عوض خریدا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…