پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اس ائیر لائن سے مقابلے کیلئے حکومت پاکستان کو میدان میں آنا ہوگا ٗ پی آئی اے نے مطالبہ کر دیا

datetime 25  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو برنڈ ہلڈن برانڈ نے کہا ہے کہ خلیجی ایئرلائنز کے ساتھ مقابلے کے لیے حکومت پاکستان کو میدان میں آنا ہوگا اور پاکستان میں ان ایئرلائنز کی پروازوں کی تعداد کو محدود کرنے جیسے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جرمنی سے تعلق رکھنے

والے پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ سرکاری ایئرلائن کو ماہانہ 3.1 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے ٗ ایمرٹس اور اتحاد جیسی ایئرلائنز کا مارکیٹ شیئرز بڑھ رہا ہے اور پاکستان میں ان کی ڈیمانڈ بھی بڑھ رہی ہے۔خیال رہے کہ برنڈ ہلڈن برانڈ کا نام پاکستانی وزارت داخلہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں رواں ماہ کے آغاز میں ڈالا تھا جبکہ حکومت ایک طیارے کی لیز کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی تحقیقات بھی کررہی ہے البتہ برنڈ ہلڈن کسی بھی قسم کی بدعنوانی کے الزام کو مسترد کرتے ہیں۔برنڈ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ انتہائی مشکل ہے کہ ہم ایمرٹس کے ساتھ مقابلہ کریں کیوں کہ خلیجی ایئرلائنز زیادہ بہتر اور سستی سروسز فراہم کررہی ہیں ٗ فنڈز کی کمی کی وجہ سے پی آئی اے کو اپنے 35 طیاروں پر مبنی فضائی بیڑے کی تجدید میں مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاملے میں پی آئی اے کو حکومت کی مدد درکار ہے جس میں ممکنہ طور پر حکومت کی جانب سے اوپن اسکائی

پالیسی میں سختی کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دیگر کئی ممالک اور بلاک کے درمیان ہونے والے دو طرفہ تجارتی معاہدوں میں کافی حدود و قیود ہیں، مثال کے طور پر کینیڈا جس نے اتحاد اور ایمرٹس کی اپنے ملک میں پروازوں کی تعداد کم کردی ہے ٗ یورپی ممالک بھی ان ایئرلائنز کو کھلی

چھوٹ نہیں دیتے۔انہوںنے کہاکہ وہ مسابقت کے خلاف نہیں ہیں تاہم لامحدود مسابقت بھی ممکن نہیں۔ہلڈن برانڈ نے کہا کہ پی آئی اے کا مجموعی خسارہ 2016 کے آخر تک 186 ارب روپے تک جاپہنچا تھا ٗمیں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ پی آئی اے کو دوبارہ منافع بخش بنانے کیلئے اس کی

مدد کریں۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پی آئی اے کو منافع کی جانب آنے میں کم سے کم 3 سال لگ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 25 برسوں کے دوران جو چیزیں غلط ہوئی ہیں انہیں 6 ماہ میں ٹھیک کرنا ناممکن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…