پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

توہین انگیزمواد کی تشہیر،پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمانے سوشل میڈیاکی بندش کی مخالفت کردی

datetime 23  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ایک کتاب ہتک آمیز ہو تو لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں توہین آمیز مواد کو ہٹانا ہو گا ۔سوشل میڈیاکوبندکرنامسئلے کاحل نہیں ہے ۔ سیاسی جماعتوں کو نظریہ ضرورت کی ضرورت پڑتی ہے۔ عدالت کو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیئے عوام کی توقعات پر نہیں حدیبیہ ملز کیس منی لانڈرنگ کی داستان ہے ۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تو نیب تحقیقات کا راستہ کھل جائے گا

۔ 25سالہ کاروبار کا منی ٹریل 2حط نہیں ہو سکتے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک میں غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے۔ پانامہ کیس کی سماعتوں کے بعد فیصلے کا دن تھا وہ فیصلہ محفوظ ہے اس کا زرداری صاحب یا پیپلز پارٹی کچھ نہںی کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہتک آمیز تصاویر سے انٹرنیٹ اور فیس بک کو بند نہیں کیا جا سکتا اگر کسی لائبریری میں لاکھوں کتابیں ہوں اور ایک ہتک پر مشتمل ہو تو اس کتاب کو نکالا جائے گا۔ لائبریریاں بند نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے ریکارڈ طلب نہ کر کے انہیں سہولت دی گء ہے حدیبیہ پیپر ملز کیس بھی منی لانڈرنگ کی پوری داستان ہے۔ فلیٹس کے مالکانہ ثبوت طلب نہ کرنے سے شریف خاندان کو فائدہ ہوا ہے۔ پانامہ کا فیصلہ کب اور کیا آئے گا اس پر قیاس آرائی نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار کا بیان تمام دستاویزات کا ریکارڈ ہے۔ عدالت کے لئے قانون ہی ایک پیمانہ ہونا چاہیئے۔ عدالت کا فیصلہ میں نہیں بتا سکتا تاہم سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا تو نیب تحقیقات کا راستہ کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قطری خط شریف خاندان کے خلاف بڑی شہادت ہے۔ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں شریف خاندان پر ہلکا ہاتھ رکھا گیا نواز شریف کا صفائی کا مؤقف تسلیم نہیں کیا جا سکتا25سال کے کاروبار کا کوئی ریکارڈ نہیں25سال کے کاروبار کا ٹریل 2خط نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر کے معاملات پر بات نہیں کر سکتا۔ پارٹی کے معاملات جو بھی ہوں وہ حل ہو جائیں گے۔ پیپلزپارٹی کو پنجاب میں متحرک ہونا پڑے گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…