پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

6 ارب روپے مالیت کا وہ پاکستانی بنک جو صرف ایک ہزار روپے میں کس حکومتی شخصیت کو بیچ دیا گیا؟

datetime 23  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی رئوف کلاسرا نے انکشاف کیا ہے کہ نیب میں ایک کیس چل رہا ہے اور اس کیس میں سٹیٹ بنک کے گورنر اشرف وتھرا کا نام بھی شامل ہے۔ اشرف وتھرا نے بنک اسلامی کو صرف ایک ہزار روپے میں کسب بنک لے کر دیاجس کی مالیت 6 ارب روپے ہے۔ اس کے بعد اشرف وتھرا نے بنک اسلامی کو 20 ارب روپے کا خلاف قانون قرضہ

دیا جس پر انٹرسٹ کی شرح صفر اعشاریہ صفر ایک تھی۔ یہ قرضہ بنک اسلامی کو اس لئے دیا گیا کہ ان کے پاس بھی بنک چلانے کے پیسے نہیں ہیں۔ بنک اسلامی کے پیچھے مظفر بخاری نے خطرناک انکشافات کئے ہیں۔ رئوف کلاسرا نے کہا کہ کسب بنک KASBکو یہ کہہ کر بنک اسلامی میں ادغام پر مجبور کیا گیا کہ آپ کے پاس بنک چلانے کے پیسے نہیں۔ کسب بنک کو صرف ایک ہزار روپے کے عوض بنک اسلامی کو فروخت کیا گیا اور بنک اسلامی کے پاس بھی خود کو چلانے کیلئے پیسے نہیں تھے اسلئے اسے 20 ارب روپے صرف صفر اعشاریہ صفر ایک کی شرح پر قرضہ دیا۔ بنک اسلامی کے پیچھے حکومت میں بیٹھے ہوئے بہت سے بڑے لوگوں کے نام آ رہے ہیں۔ رئوف کلاسرا کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے جس میں سب سے بڑا فراڈ کیا گیا ہے۔ کسب بنک کو سہارا دینے کیلئے سامبا بنک اور چائینز سرمایہ کاروں نے بھی کوششیں کیں لیکن انہیں بھگا دیا گیا اور کسب بنک کو صرف 1 ہزار روپے میں فروخت کرکے بنک اسلامی کے ساتھ اس کا ادغام کر دیا گیا۔ نیب ریفرنس میں اس حوالے سے جو نام آ رہے ہیں ان میں اشرف وتھرا، سید عرفان علی، شوکت زمان، ارشد محمود، ندیم احمد، محمد سلیم، شاہد اشرف، اسد نذیراور عاصم سلیم وغیرہ شامل ہیں۔ اس کیس کی تفتیش میں تانے بانے بہت اوپر جا کر ملتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…