پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

’’عمران خان واقعی دل کے بادشاہ ہیں‘‘

datetime 15  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نصرر جاوید اپنے کالم میں لکھتےہیں کہ عورت کے احترام کو یقینی بنانے کے غم میں گھلے ٹی وی سکرینوں پر براجمان سماج سدھارخواتین حضرات کو مگر یاد نہیں رہا کہ عفت رضوی نام کی ایک صحافی خاتون بھی ہیں۔ میں انہیں ذاتی طورپر ہرگز نہیں جانتا۔ سنا ہے سپریم کورٹ کی کارروائی کو رپورٹ کرتی ہیں۔سپریم کورٹ کے بارے میں خبریں دینے والے رپورٹروں نے اپنی ایک تنظیم بھی بنارکھی ہے۔چند روز قبل اس تنظیم نے عمران خان صاحب سے بنی گالہ میں

تفصیلی گفتگو کا وقت مانگا تھا۔ نظر بظاہر اس ملاقات میں ہوئی گفتگو’’’آف دی ریکارڈ‘‘ تھی۔اس خاتون نے مگر اپنے سمارٹ فون کے ذریعے عمران خان صاحب کی جانب سے ادا کردہ ’’پھٹیچر‘‘ اور ’’ریلوکٹے‘‘والے الفاظ ریکارڈ کرلئے۔ بعدازاں ان کلمات کو محترمہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔دہائی مچ گئی۔عمران خان صاحب کی ان الفاظ کی وجہ سے مذمت شروع ہوئی تو وہ ہرگز معذرت خواہ نظر نہ آئے۔ انہوں نے ایمانداری کے ساتھ اپنے ادا کردہ الفاظ کے استعمال کا دفاع کیا۔سپریم کورٹ کے رپورٹروں کی تنظیم نے اس کے باوجود اپنی ساتھی خاتون کی ایک باقاعدہ پریس ریلیز کے ذریعے مذمت کرنا ضروری سمجھا۔ ہم صحافیوں کا گروہ جب کسی شخصیت سے ’’آف دی ریکارڈ‘‘ گفتگو کے لئے ملاقات کرے تو اس ملاقات میں ہوئی گفتگو کو منظرِ عام پر لانا غیر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے رپورٹروں نے اسی اصول کا اطلاق کیا۔ اپنی ہی برادری کی جانب سے ہوئی مذمت مجھ ایسے صحافیوں کے لئے کسی زمانے میں ایک کڑی سزا سمجھی جاتی تھی۔زمانہ مگر اب بدل چکا ہے۔مذمت کافی نہیں سمجھی جاتی۔ہم غلطیوں کا ارتکاب کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانے پر بضد ہوچکے ہیں۔عمران خان کے ادا کردہ الفاظ کو برسرِ عام لانے والی خاتون رپورٹر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ سوشل میڈیا پر اس کی بہت بھداڑائی گئی۔اس بھد سے بھی کچھ لوگوں کی مگر تسلی نہ ہوئی۔ فیس بک پر بالآخر ایک تصویر پھیلادی گئی۔اس کے ذریعے پیغام یہ دیا گیا کہ مذکورہ خاتون نے ایک غیر مسلم

امریکی سے شادی کررکھی ہے اور اس کے شوہر کا تعلق مبینہ طورپر بدبختوں کے اس گروہ سے ہے جو ’’بھینسا‘‘جیسے ناموں سے ہمارے مذہبی شعائر اور مقدس ہستیوں کو انٹرنیٹ پر تضحیک کا نشانہ بناتا رہتا ہے۔مذکورہ خاتون جس کی شادی درحقیقت ایک پاکستانی مسلمان سے ہوئی ہے اپنی جان بچانے کے خوف میں مبتلا ہو گئی۔ گزشتہ جمعرات کا پورا دن اس نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے صدرشکیل انجم کے دفتر میں روتے ہوئے

صرف کیا۔ شکیل نے گھبرا کر اس کی مدد کے لئے صحافیوں کی یونین سے رابطہ کیا۔ افضل بٹ اس تنظیم کے اہم رہ نما ہیں۔بالآخر شکیل انجم اور افضل بٹ کی کاوشوں سے مذکورہ خاتون اپنے خاوند سمیت بنی گالہ میں عمران خان صاحب کے روبرو حاضر ہوگئی۔ عمران خان صاحب نے مسکراتے ہوئے دریادلی کے ساتھ اسے معاف کردیا۔ اس کے ساتھ ایک تصویر بھی کچھوائی۔ وہ تصویر سوشل میڈیا پر آئی تو مذکورہ خاتون کے خلاف

سنگین الزامات کا طوفان بھی رک گیا۔ مجھے یہ پیغام مل گیا کہ عمران خان صاحب کی ذات اور سیاست پر تنقیدی کلمات لکھنے یا بولنے سے پہلے اس حقیقت کو مدنظر رکھوں کہ موصوف کی ’’توہین‘‘ دینی شعائر اور مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانے والے گروہ کا رکن بنادے گی۔عورتوں کے احترام کو یقینی بنانے کے غم میں مبتلا میرے سماج سدھار ساتھیوں نے مگر اس پہلو کو کمال فیاضی سے نظرانداز کرتے ہوئے اپنی پوری توجہ جاوید لطیف کا سماجی بائیکاٹ کرنے پر مبذول رکھی ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…