جمعہ‬‮ ، 13 فروری‬‮ 2026 

مردم شماری میں ہونیوالے5ایسے کام جوپہلے کبھی نہیں ہوئے

datetime 13  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستان میں آخری مرتبہ مردم شماری 1998میں ہوئی تھی جس کے بعد 2002کے انتخابات سمیت اس کے بعد کے تمام انتخابات کی حدبندیاں اسی مردم شماری کے اعدادوشمارکے مطابق کی گئی ہیں ۔وفاقی حکومت نے 18سال بعد ہونے والی مردم شماری کوشفاف اورپائیدارڈیٹاحاصل کرنے کےلئے مردم شماری 2017کے فارم میں 5اضافی خانے شامل کردیئے  ہیں جوکہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ

شامل کئے گئے ہیں ۔اس فارم میں پہلے آپشن میں مردوں ،دوسرے میں خواتین جبکہ تیسرے میں خواجہ سرائوں کوظاہرکرنے کےلئے ایک اضافی خانہ شامل کیاگیاہے تاکہ مردم شماری کے ذریعے معلوم ہوسکے کہ ملک میں مردوں ،خواتین اورخواجہ سرائوں کی کتنی آبادی ہے اوران کاآبادی میں کتناتناسب ہے ۔مردم شماری میں ایک خانہ زبان کارکھاگیاہے اس فارم میں صرف پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کوشامل کیاگیاہے ،تیسرااضافی خانہ اقلیتوں کےلئے ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ پاکستان کی آبادی میں اقلیتوں کاکتناتناسب ہے کیونکہ اس حوالے سے پاکستان میں عیسائیوں کی تعداد 20لاکھ سے 1کروڑ جبکہ ہندوؤں کی آبادی 25لاکھ سے 45لاکھ والے اندازے متنازع ہیں اورجس کی وجہ سے کئی مسائل نے بھی جنم لیاہے ۔حالیہ مردم شماری میں شہری مذہب کے لحاظ سے مسلمان ، عیسائی ، ہندو وغیر ہ کے خانوں میں اپنا اندرا ج کرا سکیں گے جبکہ اس کے علاوہ وہ شیڈول ذاتوں یاپسماندہ ہندو خاندانوں کے رکن کے طوپربھی اپنااندراج کراسکتے ہیں لیکن مردم شماری کے لئے ان نئے فارموں میں ابھی بھی سکھوں،پارسیوں اوربہائی فرقے کاکوئی الگ آپشن موجود نہیں ہے ۔اس کے چوتھے خانے میںمردم شماری کےدوران عوام سے یہ پوچھاجائے گاکہ ان کے گھرمیں کتنے باتھ رومزہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1998کی مردم شماری کے مطابق

40فیصدافرادکے پاس گھروں میں بیت الخلاکی سہولت میسرنہیں ہے اوراس مقصدکےلئے کھیتوں کااستعمال سب سے زیاد ہے جبکہ اس وجہ سے بچوں اورخواتین میں صحت کے مسائل مردوں کی نسبت زیادہ پیداہورہے ہیں ۔مردم شماری 2017کے فارموں کےلئے ایک اضافی خانہ 2قومیتوں کاہے جس میں پاکستانی یاغیرملکی افرادکاآپشن رکھاگیاہے جبکہ پاکستان میں رہائش پذیرافغانوں کی موجودگی کے پیش نظرپاک فوج کی طرف سے مردم شماری کوپائیداراورمستندبنانےکےلئے بہترین پلاننگ کی جارہی ہے تاکہ کوئی غیرملکی پاکستانی شہری بن کرہی اپنی رجسٹریشن نہ کراسکےاوراس معاملے کوروکنے کےلئےجرمانہ اورسزابھی تجویزکردی گئی ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…