جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

پانی کا معیار چیک کرانے کیلئے ملک بھرمیں سروے ،کتنے فیصد علاقوں میں پانی پینے کے لائق ہی نہیں؟ناقابل یقین انکشاف

datetime 7  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)ایوان بالا کو آ گاہ کیا گیا ہے کہ ملک میں پانی کا معیار چیک کرانے کیلئے 10 ہزار واٹر سپلائی سکیموں کا سروے کیا گیا ہے, 72 فیصد سکیمیں غیر فعال پائی گئی جس میں سے 84 فیصد سکیموں کا پانی پینے کیلئےغیر محفوظ قرار دیا گیا ہے، سی پیک کے تحت چلنے والےمنصوبوں میں کام کرنےوالے انجینئروں اور ورکرز کی اکثریت پاکستانی ہے،پاکستان کے انجینئرزاورورکرز کو چین میں تربیت کیلئے بھی بھیجا گیا ہے،

سی پیک کے تحت چین کو ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی جس سے مقامی صنعتوں پر منفی اثر پڑے، 70 سال بعد کوئٹہ شہر کا رابطہ گوادر سے بحال کیا گیا ہے،آٹو پالیسی کے اجراء کے بعد کئی کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں، رینالٹ سمیت 4,5 چین کی کمپنیوں نے درخواستیں کی ہیں لیکن ا بھی تک بزنس پلان نہیں جمع کرایا،سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے 33 ہزار افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے جس میں 65 فیصد خواتین شامل ہیں،مالی سا ل 2013-14کے بعد ہر سال ایف بی آر ایک لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے, مقررہ ہدف کے حصول کے لئے تقریباً ایک لاکھ افراد گواشوارے پیش کرنے کیلئے نوٹس جاری کئے ہیں۔ منگل کوان خیالا ت کا اظہار وفاقی وزیر ترقی و منصو بہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی،وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین ، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔منگل کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی صدارت میں شروع ہوا ‘ تلاوت کلام پاک کے بعد وقفہ سوالات کا آغاز ہوا۔سینیٹر اعظم سواتی کےسوال کےجواب میں وفاقی وزیرمنصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نےکہاکہ سی پیک کے تحت چلنے والےمنصوبوں میں کام کرنےوالےانجینئروں اور ورکرز کی اکثریت پاکستانی ہےتاہم منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے کچھ تعداد چین کےانجینئرز اور ورکرز کی منصوبوں میں کام کر رہی ہے۔

پاکستان کے انجینئرز اور ورکرز کو چین میں تر بیت کیلئے بھی بھیجا گیا ہے۔ سی پیک کے تحت چین کو ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی جس سے مقامی صنعت پر منفی اثر پڑے۔ سی پیک کے تحت انجینئرنگ ‘ لاجسٹکس اور روڈ ورکس پروجیکٹس میں استعداد بڑھانے کے لئے ملک بھر میں تقریباً 200 ادارون میں نیشلن وکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن میں سی پیک سے متعلقہ منصوبوں کیلئے غیر ہنر مند ‘ نیم ہنر مند ورک فورس کی تربیت کے لئے اقدامات اٹھائے ہیں۔

سینیٹر نزہت صادق کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی نے کہا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران کل برآمدات میں انجینئرنگ کے شعبہ کا حصہ 4 سے 5 فیصد رہا۔ آٹو پالیسی کے اجراء کے بعد کئی کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں۔ رینالٹ سمیت 4,5 چین کی کمپنیوں نے درخواستیں کی ہیں لیکن ا بھی تک بزنس پلان نہیں جمع کرایا۔ ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کے تحت دی گئی مراعات سے ملک میں سرمایہ کاری آئے گی۔ برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

صنعتی شعبہ میں کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) نے 33 ہزار افراد کو تربیت فراہم کی گئی ہے جس میں65 فیصد خواتین شامل ہیں۔ سینیٹر چوہدری تنویر کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی احسن اقبال نے کہاکہ سی پیک کے حوالے سے 6 ویں جے سی سی اجلاس میں جی سڑکوں کو شامل کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ گوادر میں منصوبے التواء کاشکار تھے اور کام بند تھا۔ موجودہ حکومت نے اس پر کام شروع کیا ہے۔ 70

سال بعد کوئٹہ شہر کا رابطہ گوادر سے بحال کیا گیا ہے۔ سینیٹر میاں عتیق کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہا کہ گزشتہ 4 سال کے دوران پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے لئے 279 ملین جاری کئے گئے۔ منصوبے کے تحت واٹر سپلائی کے شعبہ کے لوگوں کی استعداد بڑھانے کیلئے 3 ہزار افراد کی تر بیت کی گئی ۔ پی سی آر ڈبلیو آر کی 6 مقامی پانی کے معیار چیک کرنے والی لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن کی گئی۔

ضلعی سطح پر 17 نئی لیبارٹریاں قائم کی گئیں۔ پانی کا معیار چیک کرانے کیلئے 10 ہزار واٹر سپلائی سکیموں کا دینے کیلئے محفوظ پانی کے منصوبے کے تحت سروے کرایا گیا ہے۔ جن میں سے 72 فیصد سکیمیں غیر فعال تھی۔ غیر فعال سکیموں میں سے 81 فیصد سکیموں کا پانی پینے کیلئے غیر محفوظ ہے۔ متعلقہ اداروں کو یہ رپورٹ عملدرآ مد کے لئے جمع کرائی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ک کہ ڈائریکٹ ٹیکس نو جی ڈی پی کی شرح بہت کم ہے۔ 2013-14ء کے بعد ہر سال ایف بی آر ایک لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کر رہا ہے۔ مقررہ ہدف کے حصول کے لئے تقریباً ایک لاکھ افراد گواشوارے پیش کرنے کیلئے نوٹس جاری کئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ پائیدار ترقی کے حصول کے لئے وفاقی ‘ صوبائی اور مقامی حکومتیں مل کر کام کر رہی ہیں۔ تربیلا سے اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے کیلئے منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…