اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حویلیاں طیارہ حادثے کو تین ماہ کا عرصہ بیت گیا تاہم حادثے میں جاں بحق ہونے والے عملہ کے افراد کی آخری رسومات انتظامیہ کی لاپرواہی اور غفلت کے باعث تاحال ادا نہ کی جا سکیں۔ تفصیلات کے مطابق حویلیاں طیارہ حادثے کو تین ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے تاہم حادثے میں جاں بحق ہونے والے عملے کے افراد کیباقیات انتظامیہ کی غفلت کے باعث ابھی تک حویلیاں تھانے میں پڑی ہیں اور ان کی آخری رسومات بھی ادا نہ کی جا سکی ہیں۔ یاد رہے کہ طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے افراد سے متعلق تحقیقات کیلئے ان کی باقیات کو کیمیکل ایگزام ہونا ضروری تھا جس میں پتہ چلانا مقصود تھا کہ آیا عملے کے کسی فرد نے کوئی نشہ آور چیز تو دوران پرواز استعمال نہیں کی یا انہیں کوئی زہر آلود چیز تو نہیں کھلائی گئی۔حویلیاں تھانہ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ وہ کیمیکل ایگزامنر کی فیس ادا کر سکیں لہٰذا عملے کے افراد کی باقیات کے بیگز تھانے میں ہی پڑے ہیں۔ واضح رہے کہ پولیس کے پاس 4بیگز میں عملہ اراکین کی باقیات موجود ہیں جس کے کیمیکل تجزیہ کیلئے 20ہزار روپے کی رقم درکار ہے مگر انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے جہاں تحقیقات مکمل نہ ہو سکی ہیں وہیں عملے کے افرادکی آخری رسومات بھی ادا نہ ہو سکی ہیں۔
’’بس 20ہزار کی ہی تو بات تھی ‘‘ حویلیاں حادثہ کیس نےنیا موڑ لے لیا ۔۔ افسوسناک انکشا ف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
نثار خان اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت پاکستان تحریک انصاف میں شامل
-
لائٹ ڈیزل 30روپے 61پیسے،مٹی کا تیل 41روپے 44پیسے فی لٹر سستا
-
200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کیلیے اہم خبر
-
پاکستان کو آئی سی سی ورلڈکپ کی میزبانی مل گئی
-
حج کرنے کے بعد گنجے کیوں نہیں ہوئے؟ مصباح الحق نے وجہ بتادی
-
پاکستان میں محرم کے چاند کی رویت سے متعلق پیشگوئی کر دی گئی
-
متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
-
بیہودہ ڈانس کی ویڈیو بنانے والے ٹک ٹاکرز گرفتار
-
تیز رفتار لینڈ کروزر نے 8 افراد کو کچل دیا، 4 جاں بحق
-
موجودہ عہد میں بہت زیادہ جوان افراد کینسر کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟ اہم وجہ دریافت
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
یکم جولائی سے سرکاری دفاتر میں نیا قانون نافذ
-
حجاج کرام کے لیے سامان اور آبِ زم زم سے متعلق ایئرلائنز پالیسی جاری



















































