اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے پاکستان کے 8 مقامات کو کس میں شامل کر لیا؟

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور تہذیب (یونیسکو) نے تہذیبی اور قدرتی اہمیت کے حامل 8 پاکستانی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔محکمہ آرکیالوجی اور میوزیم (ڈی او اے ایم) کی جانب سے مرتب کردہ فہرست میں چولستان کے قلعہ دراوڑ، بلوچستان میں ہنگول کے تہذیبی مقامات، سندھ کے ریگستانی علاقے نگرپارکر

کے مناظر، گلگت بلتستان میں موجود قراقرم اور دیوسائی نیشنل پارک، بلوچستان میں زیارت، جونیپر کے جنگلات اور کاریز سسٹم کے مناظر سمیت پنجاب میں موجود کھیوڑہ کی نمک کی کان کو یونیسکو بھیجا گیا تھا اور انھیں دنیا کے قدیم وراثتی مقامات میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر سعید کے مطابق یونیسکو کو ان مقامات کی اہمیت کا اندازہ دلانا ایک اہم اقدام تھا۔طاہر سعید کا کہنا تھا کہ یونیسکو سے منظوری کے بعد اگلا اہم کام ان تمام مقامات کی رپورٹ تیار کرنا ہے، ہر مقام کی رپورٹ تیار کرنے میں 2 سے 3 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس رپورٹ کے ذریعے پاکستان یونیسکو کو اس منصوبہ بندی سے آگاہ کرے گا جس سے وہ ان مقامات کا تحفظ اور دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے افراد یہاں تک رسائی اور آسان سہولیات حاصل کرسکیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق اس کے علاوہ بھی یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کا حصہ بننے کی اور بہت سی شرائط ہیں جنہیں پورا کیا جانا ضروری ہے۔ان تاریخی مقامات کو عالمی ورثے میں شامل کرنے کی درخواست اچانک ہی سامنے آئی ہے جبکہ پاکستان میں تاریخی اہمیت کے حامل بیشتر مقامات نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے تباہی اور تجاوزات سے متاثر ہیں۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی

لاہور کے پانچ مقامات شالیمار باغ، گلابی باغ، بدھو کا گنبد، چوبرجی اور زیب النساء گنبد کے حوالے سے ان تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ نئی ترقیاتی اسکیموں سے ان کے متاثر ہونے کا خطرہ تھا کیونکہ یہ مقامات اورنج لائن منصوبے کے راستے میں موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…