بدھ‬‮ ، 21 جنوری‬‮ 2026 

چوہدری نثار کا استعفیٰ ، پیپلزپارٹی کے ساتھ ڈیل ،ایاز صادق نے جواب دیدیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2016 |

لاہور (این این آئی)اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایا ز صادق نے کہا ہے کہ مشرف کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ،انہیں فوج کو متنازعہ نہیں بنانا چاہئے ، چوہدری نثار پر استعفیٰ دینے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ، پیپلزپارٹی کے ساتھ پانامہ لیکس کے معاملے پر کوئی ڈیل نہیں ہوئی ،چار نکات پر پارلیمنٹ میں بات ہو سکتی ہے ،آصف علی زرداری کے آنے سے ملک میں سیاست کو فروغ ملے گا ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سروے کا لونی گڑھی شاہو میں مسیحی برادری کی جانب سے منعقدہ کرسمس کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ اقلیتوں کے ساتھ کرسمس منائیں گے، کر سمس اور قائد اعظم کی سالگرہ سے اس دن کی خوشی دگنی ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہئے اورایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے جس سے بعد میں شرمندگی ہو ،اپو زیشن اپنا کام کر تی رہے ، ہم اپنا کام کر تے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت کے منتخب عہدیداروں کو حلف برداری کے بعد دفاتر اور سہولیات مل جائیں گی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر شہری کا حق ہے وہ جب دل کرے اپنے وطن آئے جب مرضی جائے۔ آصف علی زرداری کو بھی پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتاہوں ، ان کے آنے سے ملکی سیاست کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے 4نکات پر قومی اسمبلی میں بات ہو سکتی ہے ،وہ پارلیمنٹ میں آئیں ، سڑکوں پر بات نہیں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ اور چودھری نثار کے موقف میں فرق ہے دونوں کا نقطہ نظر الگ الگ ہے چودھری نثار سپریم کورٹ جا کر اپنا نقطہ نظر کلیئر کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ چودھری نثار با کردار آدمی ہیں اندر اور باہر سے ایک ہی سوچ ہے ،ان پر پر استعفیٰ دینے کے لئے کسی قسم کا دباؤ نہیں بلکہ انہوں نے خود وزیر اعظم کو استعفے کی پیشکش کی لیکن ان کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، وہ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں دہشت گردی کے خلاف ان کا بڑا کردار ہے کراچی حالات میں بہتری بھی قابل ستائش ہے، ان کے خلاف منفی بیان بازی نہیں کی جانی چاہیے۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ فوج اور سپریم کورٹ کو غیر جانبدار دیکھ رہا ہوں ہر ادارہ اپنی حدود میں کام کر رہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ پر ویز مشرف کو فوج کو متنازعہ نہیں بنانا چاہیے ، انہیں چاہیے کہ فوج کے متعلق متنازعہ بیانات نہ دیں، ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ،ان کی سیاسی قوت سال 2013ء کے انتخابات کے نتائج کی صور ت میں سب کے سامنے ہے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…