جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

’’گوادر نہیں بلکہ ۔۔۔‘‘پاکستان کی سب سے بڑی بندر گاہ کون سی ہے اور وہاں کیا کام شروع ہو گیا ہے؟

datetime 10  دسمبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (آن لائن) ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ پاکستان ڈیپ واٹر کنٹینر پورٹ (پی ڈی ڈبلیو سی پی) نے پہلے کنٹینر جہاز اے پی ایل جاپان کے ساتھ اپنے ٹیسٹ آپریشن کا آغاز کردیا۔حکام کے مطابق 12 میٹر ڈرافٹ کا اے پی ایل جاپان کنٹینر جہاز جس کی کل لمبائی 262 میٹر ہے، پی ڈی ڈبلیو سی پی جیسی بندرگاہ کے لیے ایک چھوٹا جہاز ہے، جو 18 میٹر ڈرافٹ کے مطابق بنایا گیا ہے اور اس کا آپریشنل ڈرافٹ 16 میٹر ہے۔

کراچی بندرگاہ کے مشرقی حصے کیماڑی میں واقع اس بندرگاہ کی گنجائش اتنی ہے کہ یہ بہت بڑے سائز کے جہاز کو بھی سنبھال سکتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، اے پی ایل جاپان نے پہلے کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل، ویسٹ وہارف کراچی پورٹ پر برآمد شدہ کارگو کے کنٹینر اتارے جس کے بعد وہ پی ڈی ڈبلیو سی پی پر پہنچا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ حفاظتی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے بندرگاہ کے ٹیسٹ آپریشن کے لیے ارادی طور پر چھوٹے کنٹینر جہاز کا انتخاب کیا گیا۔

ذرائع پرامید ہیں کہ وزیراعظم جنوری کے تیسرے ہفتے میں ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ پی ڈی ڈبلیو سی پی کا باقاعدہ افتتاح کردیں گے۔علاوہ ازیں ٹیسٹ آپریشن میں چھوٹے جہاز کے اس استعمال سے ٹرمینل آپریٹر کو ممکنہ خرابیوں کو جاننے کا موقع بھی میسر آسکے گا بندرگاہ پر پہنچنے والا جہاز جبل علی دبئی کی ایک گہری بندرگاہ سے آیا تھا اور ہفتے کے روز سری لنکا کی کولمبو بندرگاہ کے ذریعے چین روانہ ہوگا۔ذرائع کے مطابق، یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ بندرگاہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) میں اہم کردار ادا کرے گی۔تعمیر کے پہلے مرحلے میں ٹرمینل آپریٹر جنوبی ایشیاء 4 پاکستان ٹرمینل (ایس اے پی ٹی) کی جانب سے برتھ نمبر 3 اور 4 کو تعمیر کیا جاچکا ہے جبکہ برتھ نمبر 1 اور 2 کی تکمیل کا عمل دوسرے مرحلے میں سرانجام دیا جائے گا۔

ہانگ کانگ کے ہچی سن پورٹس کی ملکیت اور اس کے تحت کام کرنے والے ٹرمینل آپریٹر ایس اے پی ٹی کے ترجمان نے بتایا کہ ان کی جانب سے 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، ٹرمینل آپریٹر کے لیے سامان خریدا جاچکا ہے جس میں 5 شپ ٹو شور کرینز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ہی ٹرمینل آپریٹر کی جانب سے انتظامی امور، کسٹمز اور کینٹین کے لیے 3 بلڈنگ بلاکس بھی مکمل کیے جاچکے ہیں۔دوسری جانب 28 میگاواٹ پیداوار کی صلاحیت رکھنے والا پاور اسٹیشن بھی تیار ہوچکا ہے۔یہ بندرگاہ سالانہ 3.1 میٹر ٹی ای یوز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے اسٹوریج یار?ڈ میں سالانہ 5 لاکھ 50 ہزار ٹی ای یوز کو جگہ دی جاسکے گی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…