ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

گلیمر کو تو چھوڑ دیا تھا مگر پھر بھی ۔۔! عالمی میڈیا جنید جمشید کی وفات پر کیا کہتا رہا؟ معروف اخبارات کی رپورٹس

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)اپنی زندگی اسلام کیلئے وقف کردینے والے اسٹار جند جمشید کی ناگہانی موت نے دنیا بھر میں ان کے پرستاروں کو سوگوار کردیا ہے۔ان کی موت پر دنیا بھر کے معروف اخبارات کی ویب سائٹس نے شہہ سرخیوں میں ان کا ذکر کیا اور ان کی زندگی کا احوال بیان کیاہندوستان ٹائمز نے جنید جمشید کی مختصر زندگی کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ 52 سالہ جنید جمشید تبلیغی جماعت کے نمایاں اور معروف ترین رکن تھے جو کہ تبلیغی سرگرمیوں کے بعد چترال سے واپس آتے ہوئے اپنی اہلیہ کے ساتھ طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔انڈین ایکسپریس نے جنید جمشید کی زندگی کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر انجن میں خرابی کو حادثے کی وجہ کہا گیا مگر اب بھی متعدد سوالات کے جوابات ملنا باقی ہیں، رپورٹ کے مطابق طیارے میں جنید جمشید کی موجودگی کی خبر کے ساتھ ہی ٹوئٹر پر بہت زیادہ ردعمل سامنے آیا جو ان کی مقبولیت کا ثبوت تھا اور وہ ٹاپ ٹرینڈ بن گیا جبکہ پاکستانی سیلیبرٹیز نے بھی اس پر غم کا اظہار کیا۔ٹائمز آف انڈیا نے حویلیاں کے قریب ہونے والے حادثے میں جنید جمشید کے پرملال انتقال پر بولی وڈ کے فنکاروں کا ردعمل رپورٹ کیا جن میں رشی کپور نمایاں تھے جنھوں نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ اس حادثے میں ہم نے جنید جمشید جیسا باکمال شخص کھو دیا اللہ اس پر اپنی رحمت کرے، آمین اسی طرح صوفی چوہدری نے لکھا کہ نوجوانی میں، میں نے اس البم میں حصہ لیا تھا جو میرے استاد بیدو نے ان کے لیے تیار کیا، وہ پاپ آئیکون تھے۔

ٹیلی گراف نے جنید جمشید کی زندگی کا پورا احوال اپنی رپورٹ میں بیان کرتے ہوئے بتایا کہ جنید جمشید کون تھے، وہ کیسے پاکستان کے معروف ترین گلوکار بنے اور پھر کس طرح ان کا رجحان مذہب کی جانب ہوگیاجبکہ اس دوران انہیں مشکلات کا بھی سامنا ہوا اور ایک انٹرویو کے نتیجے میں ان پر توہین مذہب کا الزام عائد ہوا جس پر انہوں نے عوام سے معذرت بھی کی۔ڈیلی مررنے لکھا کہ 52 سالہ جنید جمشید ریکارڈنگ آرٹسٹ سے مذہب اور تاجر بنے، کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ٗحادثے کی اطلاع پر برطانیہ میں ان کے چاہنے والوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت بڑا نقصان ہے۔دی گارجین نے جنید جمشید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ان کو بھرپور انداز سے خراج تحسین سے پیش کیا گیا، جنید جمشید اسی اور نوے کی دہائی میں گروپ وائٹل سائنز سے مقبول ہے جس کے گانے آج بھی مقبول ہے، بعد میں وہ تبلیغی جماعت کا حصہ بن گئے اور وہ پندرہ روزہ تبلیغی دورے پر چترال میں موجود تھے۔ڈیلی میل نے جنید جمشید کی ابتدائی زندگی کا احوال بیان کرتے ہوئے لکھا کہ جب انہوں نے گلوکاری چھوڑی تو ان کے متعدد پرستار ان کے ناقد بن گئے تاہم جنید جمشید نے اس کی پروا نہیں کی اور موسیقی کے آلات کو حرام سمجھتے ہوئے حمد و نعت پر توجہ دینا شروع کردی، اسی طرح وہ ٹی وی پروگرامز میں بھی آتے تھے اور انہیں مغربی طرز زندگی چھوڑ کر اسلام کی جانب آنے کے حوالے سے رول ماڈل کہا جاتا تھا۔سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنید جمشید نے گلیمر کو تو چھوڑ دیا تھا مگر پھر بھی وہ شہرت کی چکاچوند کے قریب رہے اور انہوں نے ٹی وی پروگرامز اور فیشن ڈیزائنر کی حیثیت سے بھی نام کمایا جبکہ کئی معاملات پر وہ تنازعات کی زد میں بھی رہے مگر پھر بھی ان کے چاہنے والے پاکستان سے لے کر پوری دنیا میں پائے جاتے تھے، جبکہ رواں سال انہیں 500 با اثر ترین مسلم شخصیات کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔گلف نیوزنے لکھا کہ جنید جمشید اس وقت پاکستان کے گھر گھر میں پہچانے جانے لگے جب 1987 میں ان کا گانا دل دل پاکستان ریلیز ہوا اور اسے پاکستان کا غیر سرکاری قومی ترانہ بھی سمجھا جانے لگا، جنید جمشید نے 2010 میں دبئی میں اپنا پہلا برانڈ آؤٹ لیٹ کھولا ٗ 2011 میں شارجہ اور ابو ظبہی میں بھی دو آؤٹ لیٹس اوپن کیے، ان کے برانڈ کے ملبوسات دنیا بھر میں رہائش پذیر پاکستانی برادری میں مقبول تھے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…