ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

’’قرضستان‘‘کشکول توڑنے والوں نے ملکی قرضہ کتنے ارب ڈالر تک پہنچا دیا؟تہلکہ خیز انکشافات

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

لاہور( این این آئی) پاکستان تحریک انصاف نے قرضوں سے متعلق حقائق نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشکول توڑنے والوں نے ملکی قرضہ22000 ارب تک پہنچا دیا جس میں ملکی قرضے15ہزار جبکہ بیرونی قرضے7ہزار ارب سے زائد ہیں۔ گزشتہ روز پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف پنجاب میاں محمود الر شید نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملکی و غیر ملکی قرضوں میں تشویشنا ک حد تک اضافہ ہو گیا ہے، (ن) لیگ کی موجودہ حکومت نے8000ارب روپے کا قرض لیا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر قرضوں کا حجم22000ارب سے تجاوز کر گیا ہے، (ن) لیگ کے موجودہ دور حکومت کے دوران ملکی قرضوں میں5ہزار ارب سے زائد جبکہ غیر ملکی قرضوں میں اڑھائی ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستمبر2016تک مقامی قرضوں کا بوجھ15ہزار ارب ہو گیا جس میں قلیل المدت قرضوں کا حجم6ہزار482ارب جبکہ طویل المدت قرضے7ہزار900ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جون2016تک غیر ملکی قرضوں کا بوجھ7ہزار200ارب روپے سے بڑھ گیا جس میں سرکاری قرضوں کا حجم6ہزار200ارب روپے ہو گیا۔
سرکاری دستاویز ات کا حوالہ دیتے ہوئے میاں محمود الر شید نے کہا کہ تین سال قبل ملک پر مجموعی قرضوں کا بوجھ14ہزار318ارب تھا جس میں ملکی قرضوں کا حجم9ہزار522ارب اور غیر ملکی قرضے4ہزار800ارب روپے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دعویٰ کشکول توڑنے کا کرنے والوں نے بچہ بچہ مقروض کر دیا ملک کی ہر شے کو گروی رکھ کر ملک کو ’’قرضستان‘‘ بنا دیا۔ میاں محمود الر شید نے کہا کہ حکومت ملک و قوم پر رحم کھائے اورقوم کے ٹیکس چوری کے پیسے سے قائم آف شور کمپنیاں بیچ کر ملکی قرضہ ادا کریں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…