ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

بطور آرمی چیف میری ترجیح کیا تھی؟راحیل شریف کا قابل تحسین اعلانافسروں اور جوانوں سے خطاب

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

راولپنڈی/کوئٹہ (آئی این پی)آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر پاکستان کو خوشحالی کے نئے دور میں داخل کرے گی ، گوادر اور سی پیک کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں گے، بلوچستان کے عوام نے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کو مسترد کر دیا ، صوبے میں اب دہشت گرد اور ان کے ہمدرد چھپتے پھر رہے ہیں ، بلوچستان کے فراریوں نے بھی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیئے ، امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا،بطور آرمی چیف بلوچستان میں سیکیورٹی اور سول حکومت کی مدد بطور میری ترجیح رہی ہے۔

وہ منگل کو یہاں سدرن کمانڈ کوئٹہ کا دورہ کے موقع پر فوجی افسروں اور جوانوں سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے جوانوں و افسروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ٰ(آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے سدرن کمانڈ کوئٹہ کا الوداعی دورہ کیا۔انہوں نے سدرن کمانڈ ، فرنٹیئر کور کے جوانوں اور افسروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فرنٹیئر کور اور سدرن کمانڈ کے جوانوں وافسروں سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان کے عوام نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک ختم کرنے میں مدد کی، بہتر سیکیورٹی صورتحال ،و فاق اورصوبائی حکومتوں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی معاونت اور ترقیاتی کام اولین ترجیح ہے ، ان ترجیحات کی وجہ سے ہر ماہ بلوچستان کا دورہ کرتا تھا۔ سی پیک کی تعمیر پاکستان کو خوشحالی کے نئے دور میں داخل کرے گی ۔ آرمی چیف نے کہا کہ گوادر اور سی پیک کے فوائد عام آدمی تک پہنچیں گے ، بلوچستان کے عوام نے غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کو مسترد کر دیا، بلوچستان میں اب دہشت گرد اور ان کے ہمدرد چھپتے پھر رہے ہیں ، بلوچستان کے فراریوں نے بھی بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال دیے ہیں امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ بلوچستان میں سیکیورٹی اور سول حکومت کی مدد بطور آرمی چیف میری ترجیح رہی ہے ۔انہوں نے دشوارگزار علاقوں میں ایک ہزار کلو میٹر طویل سڑکیں بنانے پر سدرن کمانڈ کو سراہا اور کہا کہ اسی سڑک کی تعمیر سے سی پیک کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…