ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے زیرقبضہ ریاست کے نواب نے پاکستان سے مدد طلب کرلی

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی) نواب آف جونا گڑھ جہانگیر خان جی نے کہا ہے کہ 9 نومبر 1947ء کو بھارت نے جونا گڑھ پر زبردستی قبضہ کیا جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ور زی ہے ‘ جارحیت کے اس عمل کو دنیا کی کوئی کمیونٹی برداشت نہیں کر سکتی‘ جونا گڑھ کا کیس اقوام متحد میں موجود ہے ‘ نواب آف جونا گڑھ نے 1947ء میں پاکستان سے الحاق کیا تھا ‘ پاکستان کو اس فیصلہ پر بین الاقوامی ا ور مقامی سطح پر زیادہ سنجیدہ ہونا چاہیے ‘ دوسرے صوبوں کی طرح اسلام آباد میں ہاؤس آف جونا گڑھ بھی ہونا چاہیے۔

وہ منگل کو مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام مسٹ یونیورسٹی میں جونا گڑھ پر بھارت کے قبضے سے متعلق سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دادا جونا گڑھ کو تجارت کا مرکز بنانا چاہتے تھے ۔ جونا گڑھ اس وقت بہت ترقی کے حوالے سے بہت ایڈوانس ریاست تھی اور پانچویں امیر ترین ریاست تھی۔ تقسیم کے وقت نواب آف جونا گڑھ مہابت خان جی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا مگر بھارت نے زبردستی فوج کے ذریعے جونا گڑھ پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے کہاکہ کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ بھارت ایسا کرے گا۔ جونا گڑھ کا کیس اقوام متحد میں موجود ہے پاکستان اسے سپورٹ کرتا ہے مگر حکومت کو اس مسئلہ پر زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہاکہ جونا گڑھ سے آئے ہوئے لوگوں نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس موقع پر میجر جنرل (ر) علی باز نے کہا کہ 200 سال تک جونا گڑھ پر مسلم نوابوں کی حکمرانی کی ہے مگر کچھ دہائیوں سے جونا گڑھ کو بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمیں نوجوان نسل کو جو نا گڑھ کے بارے میں آگاہی دینا چاہیے۔ قاس مسئلے پر سیمینار اور میٹنگز ہونی چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس مسئلے کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی پرنس عدنان اورنگزیب نے کہا کہ جونا گڑھ کا مسئلہ آہستہ آہستہ ہماری نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ جونا گڑھ کو اس وقت پاکستان کا پانچواں صوبہ ہونا چاہیے تھا۔ سابق وزیر قانون احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان کو جونا گڑھ کے معاملے پر جارحانہ پالیسی اپنانی چاہیے اور بین الاقوامی سطح پر جونا گڑھ کا مقدمہ لڑنا چاہیے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…