ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

کام تیزی سے جاری،2017ء،2018ء میں کیا ہونیوالا ہے؟حکومت نے بڑی خوشخبریاں سنادیں

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اصلاحات پروفیسر احسن اقبال نے کہاہے کہ اقتصادی راہداری پر اندرونی اختلافات کو ختم کرناہوگا، 2018ء تک نیشنل گرڈ میں 10ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی ۔ وہ منگل کو یہاں پلاننگ کمیشن میں وزارت منصوبہ بندی و ترقیات اور یو ایس ایڈ کے درمیان توانائی کیلئے مربوط سسٹم کے قیام کیلئے ایم او یو پر دستخط کے دور ان گفتگو کررہے تھے وفاقی وزیر نے کہاکہ اس سسٹم کامقصد ایسا سنٹر قائم کرناہے جس سے پاکستان میں توانائی کے شعبہ میں کارکردگی بڑھانے کیلئے کام کیاجائیگا ، اس سنٹر سے ملک میں بجلی کی ترسیل کا نظام بہتر ہو جائیگا۔

انہوں نے کہاکہ سی پیک پر اندرونی اختلافات کو ختم کرنا ہو گا اور دوست ملک کو ہماری داخلی سیاست میں کسی قسم کی تنازعہ بنانے کی ضرورت نہیں انہوں نے کہاکہ سی پیک پر سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی سے بات ہوئی ہے اور ان کے اختلافات دور کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ عدالتی کاروائی سے خود خیبر پختونخوا کا نقصان ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں منڈا ڈیم ، داسو ڈیم اور قبائلی علاقوں میں ڈیموں پر کام ہو رہاہے ۔ انڈس ہائی وے اور لواری ٹنل پر کام تیزی سے جاری ہے جو آئندہ سال 2017ء تک عوام کی سہولت کیلئے ٹریفک کیلئے کھول دیاجائیگا، ایچ ای سی میں خیبرپختونخوا میں 13سے زائد تعلیم کے منصوبے منظور کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ راہداری منصوبے کے دشمنوں کے پراپیگنڈے میں آکر کچھ سیاستدان منصوبے کو منتازعہ بنا رہے ہیں تاہم انہیں پائیدار دوست چین اور پاکستان کو کے مفاد کو مد نظر رکھنا چاہیے،

قانونی چارہ جوئی خود پختونخوا کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گی ، اگر انیہں تحفظات ہیں تو انہیں میڈیااور عدلیہ کی بجائے پارلیمانی کمیٹی میں طے کرناچاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ امریکہ میں کسی کی بھی حکومت آئے تعلقات میں فرق نہیں آئے گا کیونکہ وہاں پالیسیاں ادارے بناتے ہیں۔ خطے میں امن کے قیام کیلئے امریکا کو اپنا کردار ادا کرناچاہیے۔ اس موقع پر پلاننگ کمیشن کی طرف سے سیکرٹری پلاننگ نسیم کھوکھر اور یو ایس ایڈ کے مشن ڈائریکٹر جان گرو کے نے ایم او یو پر دستخط کئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…